حدیث نمبر: 33526
٣٣٥٢٦ - حدثنا أبو خالد عن يحيى بن (سعيد) (١) عن عمرو بن شعيب أن (أبا) (٢) قتادة رجلًا من بني مدلج قتل ابنه، فأخذ به عمر بن الخطاب مائة من الإبل ثلاثين حقة وثلاثين جذعة وأربعين خلفة وقال لأبي المقتول: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "ليس لقاتل ميراث" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
عمرو بن شعیب فرماتے ہیں کہ ابو قتادہ جو بنو مدلج کا ایک شخص تھا، اس نے اپنے بیٹے کو قتل کردیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے اس کے بدلے سو اونٹ لئے، تیس تین سالہ اونٹ، تیس چالیس سالہ اونٹ، اور چالیس حاملہ اونٹنیاں، اور مقتول کے والد کو یہ فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے ، کہ قاتل کے لئے کوئی میراث نہیں۔
حدیث نمبر: 33527
٣٣٥٢٧ - حدثنا حفص عن حجاج عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: قال عمر: لا يرث القاتل (١).
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ، کہ قاتل وارث نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 33528
٣٣٥٢٨ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن مطرف عن الشعبي قال: قال عمر: لا يرث القاتل عمدًا ولا خطأ (١).
مولانا محمد اویس سرور
شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، کہ نہ جان بوجھ کر قتل کرنے والا وارث ہوگا ، نہ غلطی سے قتل کرنے والا۔
حدیث نمبر: 33529
٣٣٥٢٩ - حدثنا عباد عن حجاج عن حبيب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس أن رجلًا قتل أخاه خطأ، فسئل عن ذلك ابن عباس فلم يورثه، وقال: لا يرث قاتل شيئا (١).
مولانا محمد اویس سرور
سعید بن جبیر روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے بھائی کو غلطی سے قتل کردیا، چناچہ اس کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا : تو آپ نے فرمایا : کوئی قاتل کسی چیز کا وارث نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 33530
٣٣٥٣٠ - حدثنا شبابة عن ابن أبي ذئب عن الزهري عن سعيد بن المسيب قال: قضى النبي ﷺ: لا يرث قاتل من (قتل) (١) قريبه شيئا من الدية ⦗٣٤٩⦘ عمدا أو خطأ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جو آدمی کسی کو قتل کر دے وہ خواہ جان بوجھ کر قتل کرے یا غلطی سے ، مقتول کی دیت کا وارث نہیں ہوگا، اور زہری فرماتے ہیں قاتل مقتول کی کسی چیز کا وارث نہیں ہوگا، چاہے وہ بیٹا ہو یا باپ ہو۔ لیکن وہ مقتول کے اپنے مال کا وارث ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو یہ علم ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو قتل کریں گے، اور کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ ان وراثتوں کو ختم کر دے جو اللہ تعالیٰ نے مقر ر کردی ہیں۔
حدیث نمبر: 33531
٣٣٥٣١ - وقال الزهري: القاتل لا يرث من دية من قتل شيئًا، وإن كان ولدًا أو والدًا، ولكن يرث من ماله؛ لأن اللَّه قد علم أن الناس يقتل بعضهم بعضًا، ولا ينبغي لأحد أن يقطع المواريث التي فرضها.
حدیث نمبر: 33532
٣٣٥٣٢ - حدثنا وكيع عن حسن (عن ليث) (١) عن (أبي عمرو) (٢) العبدي عن علي قال: لا يرث القاتل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابو عمرو عبدی حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ قاتل وارث نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 33533
٣٣٥٣٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن حجاج عن عطاء قال: لا يرث القاتل من الدية ولا من المال شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
حجاج روایت کرتے ہیں کہ حضرت عطاء نے فرمایا ، کہ قاتل مقتول کی دیت کا وارث نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 33534
٣٣٥٣٤ - حدثنا إبراهيم بن صدقة عن يونس عن الحسن أنه كان لا يورث القاتل، ويرى أنه يحجب.
مولانا محمد اویس سرور
یونس روایت کرتے ہیں کہ حسن قاتل کو وارث نہیں بناتے تھے اور ان کی رائے یہ تھی کہ قاتل محجوب ہے۔
حدیث نمبر: 33535
٣٣٥٣٥ - حدثنا حماد بن مسعدة (١) عن ابن أبي ذئب قال: سألت ابن شهاب عن القاتل يرث شيئًا؟ (فقال: قال) (٢) سعيد بن المسيب: مضت السنة أن القاتل لا يرث شيئًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابن ابی ذئب فرماتے ہیں ، کہ میں نے ابن شہاب سے پوچھا، کہ کیا قاتل کسی چیز کا وارث ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا، کہ حضرت سعید بن مسیب نے فرمایا ہے کہ حدیث میں یہ بات طے ہے کہ قاتل کسی چیز کا وارث نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 33536
٣٣٥٣٦ - حدثنا حماد بن مسعدة عن ابن أبي ذئب عن عبد الواحد بن أبي عون قال: قال محمد بن جبير: القاتل عمدًا لا يرث من الدية ولا من غيرها شيئًا، والقاتل خطأ لا يرث من الدية شيئًا، ويرث من غيرها إن كان.
مولانا محمد اویس سرور
عبد الواحد بن ابی عون فرماتے ہیں کہ محمد بن جبیر نے فرمایا کہ جان بوجھ کر قتل کرنے والا دیت اور دوسرے مال کا وارث نہیں ہوگا، اور غلطی سے قتل کرنے والا دیت کا وارث تو نہیں ہوگا البتہ اگر دوسرا مال موجود ہو تو اس کا وارث ہوگا۔
حدیث نمبر: 33537
٣٣٥٣٧ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن يحيى بن سعيد عن عروة قال: لا يرث القاتل.
مولانا محمد اویس سرور
یحییٰ بن سعید حضرت عروہ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ قاتل وارث نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 33538
٣٣٥٣٨ - حدثنا حاتم عن هشام عن (أبيه) (١) قال: لا يرث قاتل شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
ہشّام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، فرمایا، کہ قاتل مال کے کسی حصّے کا وارث نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 33539
٣٣٥٣٩ - حدثنا ابن أبي (غنية) (١) عن أبيه عن الحكم قال: إذا قتل الرجل ابنه أو أخاه لم يرثه، وورثه أقرب الناس بعده.
مولانا محمد اویس سرور
ابو غنیّہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت حکم نے فرمایا، کہ جب کوئی آدمی اپنے بیٹے یا بھائی کو قتل کر دے تو وہ اس کا وارث نہیں ہوگا، اس کے علاوہ جو آدمی میت سے زیادہ قریب ہو وہ اس کا وارث ہوگا۔
حدیث نمبر: 33540
٣٣٥٤٠ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن ابن جريج عن عطاء قال: إن قتله خطأ (ورثه) (١) من ماله، ولم يرث من ديته، وإن قتله عمدا لم يرث من ماله ولا من ديته.
مولانا محمد اویس سرور
ابن جریج حضرت عطاء سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ اگر قاتل غلطی سے قتل کرے تو وہ میت کے مال سے وارث ہوگا لیکن میت کی دیت سے وارث نہیں ہوگا، لیکن اگر جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کے مال کا وارث ہوگا نہ اس کی دیت کا۔
حدیث نمبر: 33541
٣٣٥٤١ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: إذا قتل وليه خطأ ورث من ماله، ولم يرث من ديته، وإن قتله عمدًا لم يرث من ماله ولا من ديته.
مولانا محمد اویس سرور
معمر روایت کرتے ہیں کہ زہری نے فرمایا، کہ جب کوئی آدمی غلطی سے اپنے ولی کو قتل کر دے تو وہ اس کے مال کا وارث نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 33542
٣٣٥٤٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا علي بن مبارك عن يحيى بن أبي كثير عن علي في رجل قتل أمه (فقال) (١): إن كان خطأ ورث، وإن كان عمدا لم يرث (٢).
مولانا محمد اویس سرور
یحییٰ بن ابی کثیر روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کے بارے میں فرمایا جس نے اپنی ماں کو قتل کردیا تھا ، کہ اگر اس نے غلطی سے قتل کیا ہے تو وہ وارث ہوگا، اور اگر جان بوجھ کر قتل کیا ہے تو وارث نہیں ہوگا۔ وکیع فرماتے ہیں کہ جان بوجھ کر قتل کرنے والا اور بھول کر قتل کرنے والا دونوں دیت کے وارث ہوں گے نہ مال کے۔
حدیث نمبر: 33543
٣٣٥٤٣ - قال وكيع: لا يرث قاتل عمد ولا خطأ من الدية ولا من المال.
حدیث نمبر: 33544
٣٣٥٤٤ - حدثنا يحيى بن يعلى عن منصور عن إبراهيم قال: لا يرث القاتل.
مولانا محمد اویس سرور
منصور روایت کرتے ہیں کہ ابراہیم نے فرمایا کہ قاتل وارث نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 33545
٣٣٥٤٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: لا يرث القاتل شيئًا من ديته ولا من ماله.
مولانا محمد اویس سرور
منصور روایت کرتے ہیں کہ قاتل مقتول کی دیت کا وارث ہوگا نہ مال کا۔
حدیث نمبر: 33546
٣٣٥٤٦ - حدثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن رجل عن القاسم قال: لا يرث القاتل.
مولانا محمد اویس سرور
سفیان ایک آدمی کے واسطے سے حضرت قاسم کا فرمان نقل کرتے ہیں، کہ قاتل وارث نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 33547
٣٣٥٤٧ - حدثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن ليث عن طاوس قال: لا يرث القاتل.
مولانا محمد اویس سرور
لیث حضرت طاؤس سے روایت کرتے ہیں کہ قاتل وارث نہیں ہوگا۔