کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: لعان کرنے والی عورت کے بیٹے کا بیان، کہ جب اس کی ماں مر چکی ہو تو اس کا کون وارث ہو گا، اور کون اس کا عصبہ ہے؟
حدیث نمبر: 33455
٣٣٤٥٥ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن الشعبي قال: (ما راني) (١) إبراهيم بن يزيد في ابن الملاعنة فقلت: يلحق بأمه، وقال إبراهيم: يلحق بأبيه، فأتينا عبد اللَّه بن هرمز فكتب لنا إلى (أهل) (٢) المدينة إلى أهل البيت الذي كان ذلك فيهم، فجاء جواب كتابهم أن رسول اللَّه ﷺ ألحقه بأمه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
شیبانی فرماتے ہیں کہ مجھ سے شعبی نے پوچھا کہ ابراہیم بن یزید کی لعان کرنے والی عورت کے بیٹے کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اس کو اس کی ماں کے ساتھ ملایا جائے گا، اور ابراہیم نے فرمایا کہ اس کو اس کے باپ کے ساتھ ملایا جائے گا، پس ہم حضرت عبد اللہ بن ہرمز کے پاس آئے تو انہوں نے ہماری خاطر مدینہ کی طرف ان لوگوں کو خط لکھا جن کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا تھا، چناچہ ان کے خط کا جواب آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اس کی ماں کے ساتھ ملایا تھا۔
حدیث نمبر: 33456
٣٣٤٥٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن داود بن أبي هند عن عبد اللَّه بن عبيد ابن عمير قال: كتبت إلى أخ لي في بني (زريق) (١): لمن قضى رسول اللَّه ﷺ (٢) بابن الملاعنة، فكتب (إلي أن) (٣) رسول اللَّه ﷺ قضى به لأمه، هي بمنزلة أبيه ومنزلة أمه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ میں نے بنو زریق کے اندر رہنے والے اپنے ایک بھائی سے خط کے ذریعے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والی عورت کے بیٹے کا فیصلہ کس کے لئے کیا تھا ؟ انہوں نے جواب میں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ اس کی ماں کے لئے کیا تھا، اس کی ماں اس کے لئے ماں اور باپ دونوں کے قائم مقام ہے۔
حدیث نمبر: 33457
٣٣٤٥٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا ابن أبي ليلى عن الشعبي عن علي وعبد اللَّه أنهما قالا في ابن الملاعنة: عصبته عصبة أمه (١).
مولانا محمد اویس سرور
شعبی روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے لعان کرنے والی عورت کے بیٹے کے بارے میں فرمایا کہ اس کے عصبہ وہی ہیں جو اس کی ماں کے عصبہ ہیں۔
حدیث نمبر: 33458
٣٣٤٥٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا موسى بن عبيدة عن نافع عن ابن عمر قال: ابن الملاعنة عصبته عصبة أمه (يرثهم و) (١) يرثونه (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
نافع روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ لعان کرنے والی عورت کے بیٹے کے عصبہ وہی لوگ ہیں جو اس کی ماں کے عصبہ ہیں کہ وہ ان کا وارث ہوگا اور وہ اس کے وارث ہوں گے۔
حدیث نمبر: 33459
٣٣٤٥٩ - [حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال: ابن الملاعنة عصبته عصبة أمه، يرثونه ويعقلون عنه] (١).
مولانا محمد اویس سرور
مغیرہ روایت کرتے ہیں کہ ابراہیم نے فرمایا کہ لعان کرنے والی عورت کے عصبہ وہی لوگ ہیں جو اس کی ماں کے عصبہ ہیں، کہ وہ اس کے وارث بھی ہوں گے اور اس کی طرف سے دیت بھی ادا کریں گے۔
حدیث نمبر: 33460
٣٣٤٦٠ - حدثنا أسباط عن مطرف عن الشعبي قال: يرثه أقرب الناس (إلى) (١) أمه.
مولانا محمد اویس سرور
مطرف شعبی کا قول نقل کرتے ہیں کہ اس کا وارث وہ شخص ہوگا جو رشتے میں اس کی ماں کے سب سے زیادہ قریب ہے۔
حدیث نمبر: 33461
٣٣٤٦١ - حدثنا شبابة قال: ثنا شعبة عن الحكم وحماد (قالا) (١): ابن الملاعنة يرثه من يرث أمه.
مولانا محمد اویس سرور
شعبہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت حکم اور حماد فرماتے ہیں کہ لعان کرنے والی عورت کا وارث وہ شخص ہوگا جو اس کی ماں کا وارث ہوتا ہے۔