کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: دادا کے حصّے کا بیان اور دوسرے رشتہ داروں کے بارے میں ان احادیث کا بیان جو اس کے بارے میں نبی کریمعلیہ السلام سے منقول ہیں
حدیث نمبر: 33312
٣٣٣١٢ - (١) حدثنا يزيد بن هارون قال: ثنا (همام) (٢) عن قتادة عن الحسن عن عمران بن حصين أن رجلًا أتى النبي ﷺ فقال: إن (ابن) (٣) ابني مات، فما لي من ميراثه؟ قال: " (لك) (٤) السدس"، فلما أدبر دعاه، قال: "لك سدس آخر"، ⦗٢٩٤⦘ فلما أدبر دعاه قال: "إن السدس (٥) الآخر طعمة" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میرا پوتا فوت ہوگیا ہے، مجھے اس کی میراث میں سے کیا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا : تمہارے لئے مال کا چھٹا حصّہ ہے، جب وہ مڑا تو آپ نے اس کو بلایا اور فرمایا : تمہارے لئے ایک اور چھٹا حصّہ ہے۔ جب وہ مڑا تو آپ نے پھر اس کو بلوایا اور فرمایا : دوسرا چھٹا حصّہ بطور عطیہ کے ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33312
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33312، ترقيم محمد عوامة 31863)
حدیث نمبر: 33313
٣٣٣١٣ - حدثنا شبابة عن يونس بن أبي إسحاق عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون عن معقل بن يسار المزني قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ أتي بفريضة فيها جد فأعطاه ثلثًا أو سدسًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معقل بن یسار مُزَنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت سنا جب آپ کے پاس میراث کا ایک مسئلہ لایا گیا جس میں دادا کا بھی ذکر تھا، آپ نے اس کو ایک تہائی مال یا مال کا چھٹا حصّہ دلایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33313
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ يونس بن أبي إسحاق صدوق، أخرجه أحمد (٢٠٣٠٩)، وابن ماجه (٢٧٢٢)، والنسائي في الكبرى (٦٣٣٣)، والطبراني ٢٠/ (٥٣٦)، وانظر: ما بعده.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33313، ترقيم محمد عوامة 31864)
حدیث نمبر: 33314
٣٣٣١٤ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن أن عمر قال: من (يعلم) (١) قضية رسول اللَّه ﷺ في الجد؟ فقال معقل بن يسار المزني: فينا قضى به رسول اللَّه ﷺ ("قال: ما ذاك؟ ") (٢) قال: السدس، قال: "مع من؟ " قال: لا أدري، قال: لا دريت فما (تغني) (٣) إذن (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا : کون جانتا ہے کہ دادا کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا ارشاد فرمایا ؟ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ ہمارے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا تھا، آپ نے پوچھا، کیا فیصلہ فرمایا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ مال کے چھٹے حصّے کا، آپ نے پوچھا : کن رشتہ داروں کی موجودگی میں ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں، آپ نے فرمایا : تجھے کچھ معلوم نہ ہو ، بھلا پھر اس بات کے معلوم ہونے کا کیا فائدہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33314
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33314، ترقيم محمد عوامة 31865)
حدیث نمبر: 33315
٣٣٣١٥ - حدثنا قبيصة عن سفيان عن زيد بن أسلم عن عياض عن أبي سعيد ⦗٢٩٥⦘ قال: كنا نورثه على عهد رسول اللَّه ﷺ يعني الجد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دادا کو وارث بنایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33315
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33315، ترقيم محمد عوامة 31866)
حدیث نمبر: 33316
٣٣٣١٦ - حدثنا وكيع عن علي بن صالح عن منصور عن إبراهيم قال: كان علي لا يزيد الجد مع الولد على السدس (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ دادا کو اولاد کے ہوتے ہوئے چھٹے حصّے سے زیادہ نہیں دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33316
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33316، ترقيم محمد عوامة 31867)