کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس مسلمان عورت کا بیان جو مرتے ہوئے شوہر اور ماں شریک مسلمان بھائیوں اور ایک نصرانی بیٹے کو چھوڑ جائے
حدیث نمبر: 33277
٣٣٢٧٧ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن مضيل عن إبراهيم في امرأة مسلمة تركت زوجها مسلما، وإخوتها لأمها مسلمين، ولها ابن نصراني أو يهودي [أو كافر، فلزوجها النصف ثلاثة أسهم، ولإخوتها لأمها الثلث سهمان، وما بقي (فلذي) (١) العصبة، في قول علي وزيد، لا يرث يهودي] (٢) ولا نصراني مسلمًا، وقضى فيها عبد اللَّه أن للزوج الربع من أجل أن لها (ولدا كافرًا) (٣) ⦗٢٨٤⦘ و (هم) (٤) يحجبون في قول عبد اللَّه ولا يرثون، (و) (٥) في قول علي وزيد: لا يحجبون ولا يرثون (٦).
مولانا محمد اویس سرور
فضیل ابراہیم سے اس مسلمان عورت کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو مسلمان شوہر اور مسلمان ماں شریک بھائیوں کو چھوڑ جائے، اور اس کا ایک نصرانی یا یہودی یا کافر بیٹا ہو کہ اس کے شوہر کے لئے آدھا مال یعنی تین حصّے ہیں اور اس کے ماں شریک بھائیوں کے لئے ایک تہائی مال یعنی دو حصّے ہیں، اور باقی مال حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق عصبہ کے لئے ہے، اور یہودی یا نصرانی آدمی مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا، اور اس مسئلہ میں حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ شوہر کے لئے ایک چوتھائی مال ہے اس وجہ سے کہ اس کا ایک کافر بیٹا ہے، اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی رائے میں کافر رشتہ دار دوسروں کے حصّے کم کرسکتے ہیں لیکن خود وارث نہیں ہوتے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رائے میں نہ دوسروں کا حصّہ کم کرتے ہیں اور نہ خود وارث ہوتے ہیں۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ کی رائے میں چھ حصّوں سے نکلے گا اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی رائے میں چار حصوں سے۔
حدیث نمبر: 33278
٣٣٢٧٨ - قال أبو بكر: فهذه في قول علي وزيد من ستة أسهم، وفي قول عبد اللَّه ابن مسعود من أربعة (١).