کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ردّ کا بیان، اور اس بارے میں فقہاء کے اختلاف کا بیان
حدیث نمبر: 33250
٣٣٢٥٠ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم عن علقمة قال: أُتي ابن مسعود في أم وإخوة لأم فأعطى الإخوة للأم الثلث، وأعطى الأم سائر المال، وقال: الأم عصبة من لا عصبة له (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ماں اور ماں شریک بھائیوں کے بارے میں سوال کیا گیا آپ نے ماں شریک بھائیوں کو ایک تہائی مال عطا فرمایا اور باقی مال ماں کو دے دیا اور فرمایا کہ ماں اس آدمی کا عصبہ ہے جس کا کوئی عصبہ نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33250
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33250، ترقيم محمد عوامة 31814)
حدیث نمبر: 33251
٣٣٢٥١ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم عن مسروق قال: أُتي عبد اللَّه في أم وأخوة لأم، فأعطى الأم السدس، والإخوة الثلث، ورد ما بقي على الأم، وقال: الأم عصبة من لا عصبة له، وكان ابن مسعود لا يرد على أخت لأب مع أخت لأب وأم، ولا على ابنة ابن مع ابنة (صلب) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس ماں اور ماں شریک بھائیوں کے بارے میں مسئلہ لایا گیا تو آپ نے مال کا چھٹا حصّہ ماں کو دے دیا اور ایک تہائی مال بھائیوں کو دے دیا اور باقی مال ماں کو دے دیا۔ اور فرمایا ماں اس آدمی کی عصبہ ہے جس کا کوئی آدمی عصبہ نہ ہو، اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ حقیقی بہن کے ہوتے ہوئے باپ شریک بہن پر مال لوٹانے کے قائل نہیں تھے اور نہ صلبی بیٹی کے ہوتے ہوئے پوتی پر مال لوٹایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33251
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33251، ترقيم محمد عوامة 31815)
حدیث نمبر: 33252
٣٣٢٥٢ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن مغيرة (والأعمش) (١) عن إبراهيم أن عليًا كان يرد على كل ذي سهم إلا الزوج والمرأة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہر حصہ دار پر مال لوٹانے کے قائل تھے سوائے شوہر اور بیوی کے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33252
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33252، ترقيم محمد عوامة 31816)
حدیث نمبر: 33253
٣٣٢٥٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن منصور قال: بلغني عن علي أنه كان يرد على كل ذي سهم إلا الزوج والمرأة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہر حصہ دار پر مال لوٹانے کے قائل تھے سوائے شوہر اور بیوی کے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33253
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33253، ترقيم محمد عوامة 31817)
حدیث نمبر: 33254
٣٣٢٥٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا شريك عن جابر عن أبي جعفر أن عليًا كان يرد على ذوي السهام من ذوي الأرحام (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ذوی الأرحام میں سے ان لوگوں پر بھی مال لوٹایا کرتے تھے جو وراثت میں حصے کے حق دار ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33254
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ جابر هو الجعفي ضعيف، وأبو جعفر لم يدرك عليًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33254، ترقيم محمد عوامة 31818)
حدیث نمبر: 33255
٣٣٢٥٥ - حدثنا (علي) (١) بن مسهر عن الشيباني عن الشعبي أنه (ذكر عنده) (٢) قضاء قضى به أبو عبيدة بن عبد اللَّه: أنه أعطى (ابنة) (٣) (أخت) (٤) المال كله، فقال الشعبي: هذا قضاء عبد اللَّه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شیبانی سے روایت ہے کہ حضرت شعبی کے سامنے ایک فیصلے کا ذکر کیا گیا جو حضرت ابو عبیدہ بن عبد اللہ نے کیا تھا کہ انہوں نے بیٹی یا بہن کو پورا مال دے دیا حضرت شعبی نے فرمایا کہ یہی حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33255
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33255، ترقيم محمد عوامة 31819)
حدیث نمبر: 33256
٣٣٢٥٦ - حدثنا ابن فضيل عن إسماعيل عن عامر عن (عبد اللَّه) (١) أنه كان يرد على الابنة والأخت والأم إذا لم تكن عصبة، وكان زيد لا يعطيهم إلا نصيبهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیٹی ، بہن اور ماں پر مال لوٹا دیا کرتے تھے۔ جبکہ وہ عصبہ بھی نہ ہو، اور حضرت زید رضی اللہ عنہان کو صرف ان کو ان کا حصہ ہی دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33256
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33256، ترقيم محمد عوامة 31820)
حدیث نمبر: 33257
٣٣٢٥٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: كان عبد اللَّه لا يرد على ستة: على زوج، ولا امرأة، ولا جدة، ولا على أخوات لأب مع أخوات لأب وأم، ولا على بنات ابن مع بنات صلب، ولا على أخت لأم مع أم (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ چھ آدمیوں پر مال دوبارہ نہیں لوٹایا کرتے تھے : شوہر پر، بیوی پر، دادی پر، حقیقی بہنوں کے ہوتے ہوئے علّاتی بہنوں پر، حقیقی بیٹوں کے ہوتے ہوئے پوتیوں پر اور ماں کے ہوتے ہوئے ماں شریک بہن پر، ابراہیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علقمہ سے عرض کیا کہ کیا دادی کے ہوتے ہوئے ماں شریک بھائیوں پر مال لوٹایا جائے گا ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ! اگر آپ چاہیں۔ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان سب پر مال لوٹایا کرتے تھے سوائے شوہر اور بیوی کے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33257
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33257، ترقيم محمد عوامة 31821)
حدیث نمبر: 33258
٣٣٢٥٨ - قال إبراهيم: فقلت لعلقمة: (ترد) (١) على الإخوة من الأم مع الجدة؟ قال: إن شئت.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33258
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33258، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 33259
٣٣٢٥٩ - قال: وكان علي يرد على جميعهم إلا الزوج والمرأة (١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33259
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33259، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 33260
٣٣٢٦٠ - حدثنا وكيع قال حدثنا الأعمش عن إبراهيم قال: كان عبد اللَّه لا يرد على ستة: لا يرد على زوج، ولا امرأة، ولا جدة، ولا على أخت لأب مع أخت لأب وأم، ولا على أخت لأم مع أم، ولا على ابنة ابن مع ابنة صلب (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم ایک دوسری سند سے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا یہی مذہب نقل فرماتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33260
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33260، ترقيم محمد عوامة 31822)
حدیث نمبر: 33261
٣٣٢٦١ - حدثنا ابن فضيل عن داود عن الشعبي قال: استشهد سالم مولى أبي حذيفة قال: فأعطى أبو بكر ابنته النصف وأعطى النصف الثاني في سبيل اللَّه (١).
مولانا محمد اویس سرور
شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کی بیٹی کو آدھا مال عطا فرمایا اور باقی آدھا مال اللہ کے راستے میں خرچ فرما دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33261
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33261، ترقيم محمد عوامة 31823)
حدیث نمبر: 33262
٣٣٢٦٢ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل بن (عمرو) (١) قال: قال إبراهيم: لم يكن أحد من أصحاب النبي ﷺ يرد على المرأة والزوج شيئًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے کوئی بھی شوہر اور بیوی پر کچھ مال بھی دوبارہ نہیں لوٹاتا تھا ، فرماتے ہیں کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ ہر حقدار کو اس کا حصّہ دیتے اور باقی مال بیت المال میں جمع کروا دیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33262
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33262، ترقيم محمد عوامة 31824)
حدیث نمبر: 33263
٣٣٢٦٣ - قال: وكان زيد يعطي كل ذي فرض فريضته، وما بقي جعله في بيت المال (١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33263
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33263، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 33264
٣٣٢٦٤ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: كان عبد اللَّه لا يرد على أخت لأب مع أخت لأب وأم، ولا يرد على ابنة ابن مع ابنة شيئًا، ولا على إخوة لأم مع أم شيئًا، ولا على زوج ولا امرأة (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ حقیقی بہن کی موجودگی میں باپ شریک بہن کو کچھ نہیں دلاتے تھے ، اسی طرح بیٹی کے ہوتے ہوئے پوتی کو، ماں کے ہوتے ہوئے ماں شریک بہن کو اور شوہر اور بیوی کو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33264
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33264، ترقيم محمد عوامة 31825)
حدیث نمبر: 33265
٣٣٢٦٥ - حدثنا جرير عن مغيرة والأعمش قالا: لم يكن أحد يرد على جدة إلا أن يكون غيرها.
مولانا محمد اویس سرور
مغیرہ اور اعمش روایت فرماتے ہیں کہ کوئی بھی دادی پر مال دوبارہ نہیں لوٹاتا تھا، دوسرے رشتہ دار ہوں تو ان پر لوٹا دیتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33265
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33265، ترقيم محمد عوامة 31826)