حدیث نمبر: 33053
٣٣٠٥٣ - حدثنا جرير عن مغيرة عن منصور عن الحكم والحسن (قالا) (١): إذا أقر بعض الورثة بدين على الميت جاز عليه في نصيبه.
مولانا محمد اویس سرور
منصور حضرت حکم اور حسن سے روایت کرتے ہیں کہ جب کوئی وارث میت پر کسی قرضے کا اقرار کرے تو وہ اقرار اس وارث کی میراث میں ملنے والے حصّے کے اندر معتبر سمجھا جائے گا۔
حدیث نمبر: 33054
٣٣٠٥٤ - حدثنا هشيم عن مطرف عن الشعبي في وارث أقر بدين، قال: عليه في نصيبه بحصته (قال) (١): (ثم قال بعد ذلك: يخرج من نصيبه) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
مطرف حضرت شعبی سے اس وارث کے بارے میں اقرار کرتے ہیں جو قرضے کا اقرار کرے انہوں نے فرمایا کہ اس قرضے میں اس کے حصّے کے برابر اس پر واجب ہوجائے گا ، راوی کہتے ہیں کہ پھر انہوں نے فرمایا کہ اس کے حصّے سے اتنا نکال لیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 33055
٣٣٠٥٥ - [حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن قال: عليه في نصيبه] (١) (بحصته) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
یونس سے روایت ہے کہ حسن نے فرمایا کہ وہ قرضہ اس کے حصّے کے بقدر اس پر واجب الاداء ہوجائے گا۔
حدیث نمبر: 33056
٣٣٠٥٦ - حدثنا عبد السلام بن حرب عن مغيرة عن عامر في رجل مات وترك ابنين وترك مائتي دينار فأقر أحد الابنين أن على أبيه خمسين دينارا قال: يؤخذ من نصيب هذا ويسلم للآخر نصيبه.
مولانا محمد اویس سرور
مغیرہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عامر نے اس آدمی کے بارے میں فرمایا جس نے مرتے وقت دو بیٹے اور ترکے میں دو سو دینار چھوڑے، پھر ایک بیٹے نے اقرار کیا کہ اس کے والد پر پچاس دینار قرضہ تھا، آپ نے فرمایا وہ قرضہ اس اقرار کرنے والے کے حصّے میں سے لے لیا جائے ا اور دوسرے کا حصّہ صحیح سلامت محفوظ رہے گا۔
حدیث نمبر: 33057
٣٣٠٥٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن الشعبي قال: إذا أقر بعض الورثة بدين على الميت جاز عليه في نصيبه.
مولانا محمد اویس سرور
مغیرہ سے روایت ہے کہ حضرت شعبی نے فرمایا کہ جب کوئی وارث میت پر کسی قرضے کا اقرار کرے تو وہ اس پر اس کے حصّے میں سے واجب الاداء ہوگا۔