کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان حضرات کا بیان جو وصیت کیا کرتے تھے اور اس کو اچھا سمجھتے تھے
حدیث نمبر: 32978
٣٢٩٧٨ - حدثنا جرير عن مغيرة عن قثم مولى ابن عباس قال: قال علي: وصيتي إلى أكبر ولدي غير طاعن عليه في بطن ولا في فرج (١).
مولانا محمد اویس سرور
قثم مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میری وصیت کا ذمہ دار میرا بڑا بیٹا ہے، اس حال میں کہ میں نے اس پر پیٹ اور شرمگاہ کے معاملے میں کوئی زیادتی نہیں کی۔
حدیث نمبر: 32979
٣٢٩٧٩ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا عبيد اللَّه عن نافع عن (ابن) (١) عمر عن النبي ﷺ قال: "ما حق امرئ مسلم يبيت ليلتين وله شيء يوصي به إلا وصيته مكتوبة عنده" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
نافع روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مسلمان آدمی پر یہ واجب ہے دو راتیں بھی اس پر اس حال میں نہ گزریں کہ اس کے پاس وصیت کے قابل کوئی چیز ہو اور اس نے اس کی وصیت اپنے پاس لکھ نہ رکھی ہو۔
حدیث نمبر: 32980
٣٢٩٨٠ - حدثنا عبد الأعلى عن داود عن عامر قال: من أوصى (بوصية) (١) لم يحف فيها، (ولم) (٢) يضار أحدا: (يكون) (٣) له من الأجر ما لو تصدق (به) (٤) في (حياته) (٥) في صحته.
مولانا محمد اویس سرور
داؤد سے روایت ہے کہ حضرت عامر نے فرمایا کہ جس شخص نے کوئی وصیت کی اور اس میں کسی پر ظلم نہیں کیا اور نہ کسی کو نقصان پہنچایا اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا کہ اس کو اپنی زندگی میں تندرستی کے زمانے میں صدقہ کرنے پر ملتا۔
حدیث نمبر: 32981
٣٢٩٨١ - حدثنا ابن إدريس عن داود عن عكرمة عن ابن عباس قال: الضرار (في) (١) الوصية من الكبائر ثم تلا: ﴿غَيْرَ مُضَارٍّ وَصِيَّةً مِنَ اللَّهِ﴾ (٢) [النساء: ١٢].
مولانا محمد اویس سرور
عکرمہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وصیت کے ذریعے سے کسی کو نقصان پہنچانا کبیرہ گناہوں میں سے ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : { غَیْرَ مُضَارٍّ وَصِیَّۃً مِنَ اللہِ }۔
حدیث نمبر: 32982
٣٢٩٨٢ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن حبيب قال: ذهبت أنا والحكم إلى سعيد بن جبير فسألته عن قوله تعالى: ﴿وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ﴾ إلى قوله: ﴿سَدِيدًا﴾ قال: هو الذي يحضره الموت فيقول له من (يحضره) (١): اتق اللَّه وأعطهم، صلهم، برهم -ولو كانوا هم الذين يأمرونه بالوصية لأحبوا أن (يبقوا) (٢) لأولادهم.
مولانا محمد اویس سرور
سفیان سے روایت ہے کہ حضرت حبیب نے فرمایا کہ میں اور حکم حضرت سعید بن جبیر کے پاس گئے اور میں نے ان سے آیت { وَلْیَخْشَ الَّذِینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعَافًا خَافُوا عَلَیْہِمْ … سَدِیدًا } کی تفسیر پوچھی، انہوں نے فرمایا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مرنے والے کے پاس اس کی موت کے وقت حاضر ہوں اور اس کو نصیحت کریں کہ اللہ سے ڈرو ! اور وہ ان حاضرین کو صلہ رحمی اور احسان کے طور پر کچھ دے ، حالانکہ اگر اس آدمی کی جگہ خود یہ لوگ ہوں تو وہ یہ چاہیں کہ اپنی اولاد کے لئے خرچ کریں۔ پھر ہم حضرت مِقسَم کے پاس آئے، اور ان سے بھی اسی آیت کے متعلق سوال کیا انہوں نے پوچھا کہ حضرت سعید نے کیا فرمایا ؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ یہ فرمایا ہے، فرمایا یہ درست نہیں، بلکہ یہ آیت اس آدمی کے متعلق ہے جس کو موت کے وقت کہا جا رہا ہو کہ اللہ سے ڈر اور اپنا مال اپنے پاس روک رکھ ! کہ تیرے مال کا تیری اولاد سے زیادہ حق دار کوئی نہیں ہے، اور اگر وصیت کرنے والا اس کا رشتہ دار ہو تو وہ یہ چاہیں کہ وہ ان کے لئے وصیت کرے۔
حدیث نمبر: 32983
٣٢٩٨٣ - فأتينا مقسما (فسألناه) (١) فقال ما قال (سعيد) (٢)، فقلنا: كذا وكذا، قال: لا، ولكنه الرجل يحضره الموت فيقال له: اتق اللَّه، وأمسك عليك ⦗٢١٩⦘ مالك، فإنه ليس أحد أحق بمالك من ولدك، ولو كان الذي يوصي ذا قرابة لأحبوا أن يوصي لهم.
حدیث نمبر: 32984
٣٢٩٨٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن داود بن أبي هند عن القاسم بن عمرو قال: اشتكى أبي فلقيت ثمامة بن حزن القشيري فقال لي: أوصى أبوك؟ قلت: لا، قال: إن استطعت أن يوصي فليوص، فإنها تمام لما انتقص من زكاته.
مولانا محمد اویس سرور
قاسم بن عمرو فرماتے ہیں کہ میرے والد بیمار ہوگئے ، میں حضرت ثمامہ بن حزن قشیری سے ملا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا : کیا تمہارے والد نے وصیت کی ہے ؟ میں نے کہا : نہیں ! فرمانے لگے : اگر تم سے ہو سکے کہ ان سے وصیت کروا سکو تو کرو ادو، کیونکہ وصیت زکاۃ کی کمی کو پورا کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 32985
٣٢٩٨٥ - حدثنا أبو خالد عن داود بن أبي هند عن عكرمة عن ابن عباس قال: الضرار في الوصية من الكبائر ثم قرأ: ﴿وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا﴾ (١) [النساء: ١٤].
مولانا محمد اویس سرور
عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وصیت میں کسی کو نقصان پہنچانا کبیرہ گناہوں میں سے ہے، پھر آپ نے پڑھا : { وَمَنْ یَعْصِ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَیَتَعَدَّ حُدُودَہُ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیہَا }۔
حدیث نمبر: 32986
٣٢٩٨٦ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرني إبراهيم بن ميسرة أنه سمع طاوسا يقول: ما من مسلم (يوقن) (١) بالوصية (يموت) (٢) ولم يوص إلا أهله (محقوقون) (٣) أن يوصوا عنه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم بن میسرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت طاؤس کو یہ فرماتے سنا : جو مسلمان وصیت کا پختہ ارادہ رکھتا ہے ، مگر بغیر وصیت کے مرجاتا ہے اس کے ورثاء پر واجب ہے اس کی طرف سے وصیت کریں۔
حدیث نمبر: 32987
٣٢٩٨٧ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا مسعر قال: ثنا أبو (حمزة) (١) عن إبراهيم قال: (إنما) (٢) كانوا يكرهون أن يموت الرجل قبل أن يوصي قبل أن (تنزل) (٣) المواريث.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام وصیت کرنے سے پہلے مرجانے کو میراث کی آیات نازل ہونے سے پہلے تک ہی ناپسند کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 32988
٣٢٩٨٨ - (١) حدثنا وكيع عن مالك بن مغول عن طلحة قال: قلت لابن أبي أوفى: أوصى رسول اللَّه ﷺ؟ قال: لا، قلت: فكيف أمر الناس بالوصية؟ قال: أوصى بكتاب اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی تھی ؟ فرمایا کہ نہیں ! میں نے پوچھا کہ پھر لوگوں کو وصیت کا حکم کیسے دیا گیا ؟ فرمانے لگے : آپ نے کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وصیت کی تھی۔
حدیث نمبر: 32989
٣٢٩٨٩ - حدثنا أبو معاوية وابن نمير عن الأعمش عن سفيان عن مسروق عن عائشة قالت: ما ترك رسول اللَّه ﷺ دينارا ولا درهما ولا أوصى بشيء (١).
مولانا محمد اویس سرور
مسروق سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی دینار چھوڑا نہ درہم ، اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت فرمائی۔
حدیث نمبر: 32990
٣٢٩٩٠ - حدثنا عبيد اللَّه قال: أنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن أرقم بن شرحبيل عن ابن عباس قال: مات رسول اللَّه ﷺ ولم يوص (١).
مولانا محمد اویس سرور
أرقم بن شرحبیل سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حال میں فوت ہوئے کہ آپ نے کوئی وصیت نہیں کی تھی۔
حدیث نمبر: 32991
٣٢٩٩١ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن إبراهيم عن الأسود قال: ذكروا عند عائشة أن عليا كان وصيًا، فقالت: متى أُوصى إليه؟ فلقد كنت مستندته (إلى) (١) حجري (فانخنث) (٢)، فمات فمتى أوصى إليه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
أسود فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے یہ بات ذکر کی گئی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصی تھے، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو کب وصیت کی تھی ؟ میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی گود میں ٹیک دے رکھی تھی کہ آپ کا جسم مبارک ڈھیلا پڑگیا اور آپ وفات پا گئے، تو پھر ان کو وصیت کب فرمائی ؟