کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: وصیت کی ذمہ داری قبول کرنے کا بیان، اگر کوئی آدمی کسی کو وصیت کا ذمہ دار بنائے تو اس آدمی کو چاہیے کہ اس ذمہ داری کو قبول کر لے
حدیث نمبر: 32953
٣٢٩٥٣ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام (عن أبيه) (١) أن عبد اللَّه بن مسعود وعثمان والمقداد بن الأسود وعبد الرحمن بن عوف ومطيع بن الأسود أوصوا إلى الزبير بن العوام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، عثمان ، مقداد بن أسود، عبد الرحمن بن عوف اور مطیع بن أسود رضی اللہ عنہ م نے حضرت زبیر بن عوّام رضی اللہ عنہ کو وصیت کا ذمہ دار بنایا تھا، اور عبد الرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھے وصیت کا ذمہ دار بنایا۔
حدیث نمبر: 32954
٣٢٩٥٤ - قال: وأوصى إلى عبد اللَّه بن الزبير (١).
حدیث نمبر: 32955
٣٢٩٥٥ - (١) حدثنا أزهر (عن) (٢) ابن عون عن نافع عن ابن عمر كان ⦗٢١٣⦘ (وصيًا) (٣) لرجل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کی وصیت کی ذمہ داری اٹھائی تھی۔
حدیث نمبر: 32956
٣٢٩٥٦ - حدثنا عباد بن العوام عن ابن عون قال: أوصى إليّ ابن عم لي، (قال) (١): فكرهت ذلك، فسألت عمرا فأمرني أن أقبلها.
مولانا محمد اویس سرور
ابن عون فرماتے ہیں کہ میرے ایک چچا زاد نے مجھے وصیت کا ذمہ دار بنایا، میں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا، اس کے بعد میں نے حضرت عمرو سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے یہ ذمہ داری قبول کرلینے کا حکم فرمایا، فرماتے ہیں کہ محمد بن سیرین بھی وصیت کی ذمہ داری لے لیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 32957
٣٢٩٥٧ - قال: وكان ابن سيرين يقبل الوصية.
حدیث نمبر: 32958
٣٢٩٥٨ - (حدثنا أبو أسامة) (١) عن إسماعيل عن قيس قال: كان أبو (عبيد) (٢) (عبر) (٣) (الفرات) (٤) فأوصى إلى عمر بن الخطاب (٥).
مولانا محمد اویس سرور
قیس فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبید فرات کے پار چلے گئے اور انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اپنا وصی بنا چھوڑا تھا۔
حدیث نمبر: 32959
٣٢٩٥٩ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن أبي الهيثم قال: بعث إلي إبراهيم فأوصى إليّ.
مولانا محمد اویس سرور
ابو الہیثم فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے پیغام بھیج کر مجھے اپنا وصی بنایا تھا۔