کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جو کسی کیلئے وصیت کرے اور جس شخص کیلئے وصیت کی تھی وہ اس سے پہلے ہی وفات پا جائے
حدیث نمبر: 32772
٣٢٧٧٢ - (١) حدثنا حفص عن أشعث عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي في رجل أوصى لرجل فمات الذي أوصى له قبل أن يأتيه، قال: هي لورثة الموصى له (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حارث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے بارے میں روایت کرتے ہیں جس نے کسی آدمی کے لئے وصیت کی پھر جس کے لئے وصیت کی تھی وہ اس وصیت کرنے والے سے پہلے ہی مرگیا، آپ نے فرمایا اس وصیت کے حق دار اس شخص کے ورثاء ہیں۔
حدیث نمبر: 32773
٣٢٧٧٣ - حدثنا حفص قال: سألت (عمرًا) (١) عنه قال: كان الحسن يقول: هي لورثة الموصى له.
مولانا محمد اویس سرور
حفص فرماتے ہیں کہ میں نے اس بارے میں عمرو رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تھا انہوں نے فرمایا کہ حسن رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ وصیت اس شخص کے ورثاء کو جائے گی۔
حدیث نمبر: 32774
٣٢٧٧٤ - حدثنا (عبدة عن سعيد) (١) عن أبي معشر عن إبراهيم قال: إذا أوصى لرجل -وهو ميت يوم يوصي له- فإن الوصية ترجع إلى ورثة الموصي (٢)، وإذا أوصى لرجل ثم مات فإن الوصية لورثة الموصى له.
مولانا محمد اویس سرور
ابو معشر ابراہیم سے روایت کرتے ہیں کہ جب کوئی آدمی کسی کے لئے کچھ مال کی وصیت کرے اور جس دن اس نے وصیت کی اسی دن مرجائے تو وصیت ورثاء کی طرف لوٹے گی ( کہ وہ اس کو نافذ کریں گے) اور جب کسی کے لئے وصیت کی اور جس کے لئے وصیت کی تھی مرجائے تو اس کے ورثاء وصیت کے حق دارہوں گے۔
حدیث نمبر: 32775
٣٢٧٧٥ - حدثنا ابن علية عن خالد عن أبي قلابة قال: لا وصية لميت.
مولانا محمد اویس سرور
ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ مردے کے لئے وصیت معتبر نہیں۔
حدیث نمبر: 32776
٣٢٧٧٦ - [حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن الشعبي قال: لا وصية لميت] (١).
مولانا محمد اویس سرور
شعبی فرماتے ہیں کہ مردے کے لئے وصیت معتبر نہیں۔
حدیث نمبر: 32777
٣٢٧٧٧ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري في الرجل يوصي الوصية فيموت الذي أوصي له قبل الذي أوصى قال: ليس له شيء، إنه أوصى له وهو ميت.
مولانا محمد اویس سرور
زہری اس شخص کے بارے میں جو کچھ وصیت کرے لیکن جس کے لئے وصیت کی وہ اس سے پہلے ہی مرجائے فرماتے ہیں : اس وصیت کا کوئی اعتبار نہیں ، کیونکہ اس نے گویا مردے کے لئے وصیت کی ہے۔
حدیث نمبر: 32778
٣٢٧٧٨ - حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد في الرجل يوصي بالوصية فيموت الموصى له قبل الذي أوصى قال: تبطل، (وإن) (١) مات الذي أوصى ثم الذي أوصي له، كان لورثته.
مولانا محمد اویس سرور
حماد فرماتے ہیں اس شخص کے بارے میں جس نے کوئی وصیت کی اور جس کے لئے وصیت کی تھی وہ اس سے پہلے مرجائے، کہ وہ وصیت باطل ہوجائے گی، اور اگر پہلے وصیت کرنے والا مرجائے پھر وہ جس کے لئے وصیت کی گئی تھی تو اس کے ورثاء اس مال کے حق دار ہوں گے۔