کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: اس آدمی کا بیان جو پہلے ایک وصیت کرے پھر دوسری وصیت کر ڈالے
❮
❯
٣٢٧٦٧ - حدثنا عبد الأعلى أو هشيم عن يونس عن الحسن قال: إذا أوصى بوصية ثم أوصى بأخرى بعدها قال: يؤخذ (بالأخرى) (١) (منهما) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
یونس حسن سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ جب کوئی شخص ایک وصیت کرے اور اس کے بعد کوئی دوسری وصیت کر دے تو دوسری وصیت پر عمل کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 32767
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32767، ترقيم محمد عوامة 31376)
٣٢٧٦٨ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو بن دينار عن عطاء وطاوس وأبي الشعثاء قالوا: يؤخذ بآخر (الوصية) (١).
مولانا محمد اویس سرور
عمرو بن دینار حضرت عطاء ، طاؤس اور ابو الشعثاء سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ ایسے آدمی کی آخری وصیت پر عمل کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 32768
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32768، ترقيم محمد عوامة 31377)
٣٢٧٦٩ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن هشام عن الحسن أن رجلًا أوصى ⦗١٧٦⦘ فدعا ناسًا فقال: أشهدكم أن غلامي فلانًا (إن) (١) حدث بي (حادث) (٢) فهو حر، [فخرجوا من عنده فقيل له: اعتقت فلانًا وتركت فلانًا وكان أحسن بلاء، (فقال) (٣): ردوا علي البينة، (أشهدكم أني قد) (٤) رجعت في عتق فلان، وأن فلانًا -لعبده الآخر- إن حدث بي حدث فهو حر] (٥)، فمات الرجل فقال الأول: أنا حر، وقال الآخر: أنا حر، فاختصما إلى عبد الملك بن مروان، فرد عتق الأول وأجاز عتق الآخر.
مولانا محمد اویس سرور
ہشام حسن سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے وصیت کی ، اور لوگوں کو بلا کر کہا : اگر مجھے موت آگئی تو میں آپ لوگوں کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میرا فلاں غلام آزاد ہے، اس سے کہا گیا کہ تم نے فلاں غلام کو تو آزاد کردیا لیکن دوسرا فلاں غلام جو اس سے زیادہ خدمت کرنے والا تھا اس کو تم نے چھوڑ دیا، اس پر اس نے کہا لوگوں کو دوبارہ بلاؤ ! اور ان سے کہا میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے اس غلام کی آزادی سے رجوع کرلیا اور دوسرا فلاں غلام آزاد ہے اگر میں مر جاؤں، چناچہ وہ آدمی مرگیا تو پہلے غلام نے دعویٰ کیا کہ میں آزاد ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں آزاد ہوں، چناچہ وہ عبد الملک بن مروان کے پاس فیصلہ کروانے کے لئے گئے تو انہوں نے پہلے غلام کی آزادی کو ردّ کر کے دوسرے غلام کی آزادی کا اعلان فرما دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 32769
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32769، ترقيم محمد عوامة 31378)
٣٢٧٧٠ - حدثنا عبد الأعلى (عن معمر) (١) عن الزهري قال: إذا أوصى الرجل بوصية ثم نقضها فهي الآخرة، وإن لم ينقضها فإنهما (تجوزان) (٢) جميعًا في ثلثه بالحصص.
مولانا محمد اویس سرور
معمر زہری سے نقل کرتے ہیں کہ جب کوئی آدمی کوئی وصیت کرے اور پھر اس کو توڑ کر دوسری وصیت کر دے تو دوسری وصیت ہی کا اعتبار کیا جائے گا، اور اگر وہ پہلی وصیت کو نہ توڑے تو اپنے اپنے حصّے کے تناسب سے اس کے ثلث میں دونوں وصیتیں نافذ ہوجائیں گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 32770
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32770، ترقيم محمد عوامة 31379)
٣٢٧٧١ - حدثنا زيد بن الحباب (عن حماد) (١) بن سلمة عن عمرو ابن شعيب أن ابن أبي ربيعة كتب إلى عمر بن الخطاب: (٢) الرجل يوصي بوصية ثم يوصي بأخرى، قال: أملكهما آخرهما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ ابن أبی ربیعہ نے حضرت عمربن خطاب سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا جس نے ایک وصیت کی پھر دوسری وصیت کر ڈالی، آپ نے فرمایا کہ ان دونوں میں سے آخری وصیت نافذ ہونے کی زیادہ حق دار ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 32771
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32771، ترقيم محمد عوامة 31380)