کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: یہ باب ہے اس آدمی کے حکم کے بیان میں جو اپنے ورثاء سے ایک تہائی سے زائد مال کی وصیت کرنے کی اجازت طلب کرے
حدیث نمبر: 32754
٣٢٧٥٤ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: إذا أوصى الرجل (بوصية) (١) لوارث، فأجاز الورثة قبل أن يموت، (ثم رجع) (٢) الورثة بعد موته، فهم على رأس أمرهم، وإذا كان (لغير وارث زيادة على الثلث فمثل ذلك، وإذا كانت) (٣) لغير وارث ما بينه وبين الثلث فإنها جائزة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی کسی وارث کے لئے وصیت کرے اور اس کے مرنے سے پہلے اس کے ورثاء اس کی اجازرت دے دیں پھر اس کے مرنے کے بعد اپنے فیصلے سے رجوع کرلیں تو ان کو اس کا اختیار ہے، اور اگر کسی غیر وارث شخص کے لئے ایک تہائی سے زیادہ مال کی وصیت کی گئی ہو تب بھی ایسا ہی ہے، اور اگر کسی نے غیر وارث کے لئے ایک تہائی سے کم کی وصیت کی ہو تو وہ نافذ ہوجاتی ہے۔
حدیث نمبر: 32755
٣٢٧٥٥ - حدثنا علي بن مسهر عن داود عن الشعبي عن شريح قال: إذا استأذن الرجل ورثته في الوصية فأوصى بأكثر من الثلث فطيّبوا له، فإذا نفضوا أيديهم (من قبره) (١) فهم على رأس أمرهم، (إن شاؤا أجازوا) (٢)، وأن شاؤا لم يجيزوا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی اپنے ورثاء سے وصیت کی اجازت مانگ کر ایک تہائی سے زائد مال کی وصیت کر دے اور وہ رضا مندی کا اظہار بھی کردیں تو اس آدمی کے مرنے کے بعد ان ورثاء کو نئے سرے سے اس وصیت کو نافذ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار حاصل ہوجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 32756
٣٢٧٥٦ - حدثنا ابن عيينة عن صالح بن مسلم عن الشعبي قال: سألته فقال: هم على رأس أمرهم.
مولانا محمد اویس سرور
صالح بن مسلم فرماتے ہیں کہ میں نے شعبی سے ایسی وصیت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا : ان کو نئے سرے سے اختیار مل جائے گا۔
حدیث نمبر: 32757
٣٢٧٥٧ - (١) حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن (ابن) (٢) طاوس عن أبيه قال: يرجعون إن شاؤا.
مولانا محمد اویس سرور
ابن طاؤس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ایسے ورثاء اگر چاہیں تو اپنے فیصلے سے رجوع کرسکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 32758
٣٢٧٥٨ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن في رجل أوصى بأكثر من الثلث برضا (من) (١) الورثة، فلما مات أنكروا ذلك، قال: هو جائز عليهم.
مولانا محمد اویس سرور
یونس حسن رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں ان سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے ورثاء کی رضا مندی سے ان کے لئے ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کی اور جب وہ مرگیا تو ورثاء نے ایک تہائی سے زیادہ نکالنے سے انکار کردیا، آپ نے فرمایا یہ ان کے لئے جائز ہے۔
حدیث نمبر: 32759
٣٢٧٥٩ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: كان عطاء يقول: جائز، قد أذنوا.
مولانا محمد اویس سرور
ابن جریج فرماتے ہیں کہ عطاء فرمایا کرتے تھے کہ یہ بات ورثاء کے لئے جائز ہے ، علماء نے اس کی اجازت دی ہے۔
حدیث نمبر: 32760
٣٢٧٦٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن حماد أنه قال في الرجل يوصي بأكثر من الثلث: يجيزه الورثة ثم يرجعون فيه، قال: ليس لهم أن يرجعوا.
مولانا محمد اویس سرور
شعبہ حماد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اس شخص کے بارے میں جو ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کرے، ورثاء اس کی اجازت دے دیں اور پھر بعد میں رجوع کرلیں فرمایا : ان کو اس طرح رجوع کرنے کا اختیار نہیں ہے، اور حکم فرماتے ہیں کہ اگر چاہیں تو وہ رجوع کرسکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 32761
٣٢٧٦١ - وقال الحكم: إن شاؤا رجعوا فيه.
حدیث نمبر: 32762
٣٢٧٦٢ - حدثنا ابن أبي (غنية) (١) عن أبيه عن الحكم قال: إذا أوصى الرجل فزاد على الثلث فاستأذن ابنه في حياته فاذن له، فإذا مات فعاد إلى ابنه، إن شاء أجازه وإن شاء رده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی ایک تہائی سے زیادہ مال کی وصیت کرے اور اپنی زندگی میں اپنے بیٹے سے اس کی جازت لے اور بیٹا اس کو اجازت دے دے، تب بھی اس آدمی کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے کو اختیار ہوگا ، چاہے تو اس وصیت کو نافذ کر دے اور چاہے تو ردّ کر دے۔
حدیث نمبر: 32763
٣٢٧٦٣ - حدثنا وكيع عن المسعودي عن أبي عون عن القاسم بن عبد الرحمن أن رجلًا استأذن ورثته في موضه في أن يوصي بأكثر من الثلث فأذنوا له، فلما مات رجعوا، فسئل ابن مسعود عن ذلك فقال: (ذلك) (١) لهم ذلك (التكره) (٢) لا يجوز (٣).
مولانا محمد اویس سرور
قاسم بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے مرض وفات میں اپنے ورثاء سے اس بات کی اجازت مانگی کہ ایک تہائی سے زائد مال کی وصیت کرے، انہوں نے اس کی اجازت دے دی، لیکن جب وہ آدمی مرا تو وہ انکاری ہوگئے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا انہیں اس بات کا اختیار ہے اور ان کو اس کے خلاف پر مجبور کرنا جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 32764
٣٢٧٦٤ - (١) حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم عن داود ابن أبي هند عن عامر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی اپنے مرض الموت میں کسی غیر وارث یا وارث کے لیے ایک تہائی سے زائد مال کی وصیت کرے اور ورثاء بھی اس کی اجازت دیدیں ، پھر وہ آدمی مرجائے تو ان کو رجوع کا حق حاصل ہے۔
حدیث نمبر: 32765
٣٢٧٦٥ - وعن خالد عن ابن سيرين عن شريح قال: إذا أوصى الرجل في مرضه بأكثر من الثلث لغير وارث أو لوارث فأذن الورثة ثم مات، فلهم أن يرجعوا.
حدیث نمبر: 32766
٣٢٧٦٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن يزيد بن خالد الدالاني قال: سمعت أبا عون محمد بن (عبيد اللَّه) (١) يحدث عن القاسم بن عبد الرحمن عن أبيه عن عبد اللَّه أنه قال في الرجل يوصي بأكثر من الثلث يجيزه الوارث ثم لا يجيزه بعد (موته) (٢)، قال: ذلك التكره لا (يجوز) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
عبد الرحمن حضرت عبد اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اس آدمی کے بارے میں جو ایک تہائی سے زائد مال کی وصیت کرے اور وارث بھی اس کو نافذ کرنے کی اجازت دے دے لیکن اس کے مرنے کے بعد اس کو نافذ نہ کرے فرمایا : اس پر جبر کرنا جائز نہیں۔