٣٢٠٦١ - حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن عطية عن أبي سعيد في (قوله) (١) (تعالى) (٢): ﴿قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا﴾ [يونس: ٥٨]، قال: بفضل اللَّه القرآن، وبرحمته أن (جعلكم) (٣) من أهله (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سعید نے اللہ کے قول ( کہو یہ اللہ کے فضل سے اور اس کی رحمت سے ہے سو ا س پر ان کو خوش ہونا چاہیے) کے بارے میں ارشاد فرمایا : اللہ کے فضل سے مراد قرآن ہے، اور اس کی رحمت سے مراد : یہ کہ تمہیں قرآن کا اھل بنادیا جائے۔
٣٢٠٦٢ - حدثنا جرير عن منصور عن هلال بن يساف في قوله: ﴿قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ﴾ قال: كتاب اللَّه والإسلام هو خير مما يجمعون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس قول ( کہو یہ اللہ کے فضل سے اور اس کی رحمت سے ہے سو اس پر ان کو خوش ہونا چاہیے۔ یہ بہتر ہے ان سب چیزوں سے جو وہ جمع کر رہے ہیں) ۔ حضرت ھلال بن یساف نے ارشاد فرمایا : کتا باللہ اور اسلام بہتر ہیں ان چیزوں سے جو وہ جمع کر رہے ہیں۔
٣٢٠٦٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن عطية عن ابن عباس في قول اللَّه: ﴿قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ﴾، قال: بفضل اللَّه الإسلام وبرحمته أن جعلكم من أهل القرآن (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطیہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے قول : (کہو یہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہے) کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : اللہ کے فضل سے مراد اسلام، اور اس کی رحمت سے مراد یہ ہے کہ تمہیں قرآن کا اھل بنادیا جائے۔
٣٢٠٦٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن القاسم عن مجاهد قال: القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے ارشاد فرمایا : فضل سے مراد قرآن ہے۔
٣٢٠٦٥ - حدثنا أبو خالد عن عمرو بن قيس عن منصور عن سالم قال: ﴿قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ﴾: الإسلام والقرآن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ حضرت سالم نے ارشاد فرمایا : آیت : کہو یہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہے ! سے مراد اسلام اور قرآن ہیں۔