کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: میت کو دفنانے کے بعد اس کے لیے یوں دعا کی جائے
حدیث نمبر: 31841
٣١٨٤١ - حدثنا إسماعيل بن علية عن (عبد اللَّه) (١) بن أبي بكر قال: كان أنس ابن مالك إذا سوّى على الميت قبره قام عليه ثم قال: اللهم عبدك رُد (إليك) (٢) (فارأف) (٣) به وارحمه، اللهم جاف الأرض عن (جنبيه) (٤) وافتح أبواب السماء لروحه وتقبله منك بقبول حسن، اللهم إن كان محسنا فضاعف له في إحسانه، وإن كان مسيئًا فتجاوز عنه سيئاته (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ جب میت کو قبر پر مٹی ڈال کر اسے برابر کردیا جاتا تو حضرت انس قبر پر کھڑے ہو کر یوں دعا فرماتے : اے اللہ ! تیرا بندہ تیری طرف لوٹا دیا گیا ہے پس تو اس پر شفقت فرما اور اس پر رحم فرما۔ اے اللہ ! زمین کو اس کے پہلو کی جانب سے کشادہ کر دے۔ اور اس کی روح کے لیے آسمان کے دروازے کھول دے۔ اور اس کے اعمال کو اچھے طریقہ سے قبول فرما، اے اللہ ! اگر یہ نیکو کار تھا تو اس کی نیکیوں کو دو چند فرما دے، اور اگر خطا کار تھا تو اس کی خطاؤں سے درگزرفرما۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31841
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31841، ترقيم محمد عوامة 30471)
حدیث نمبر: 31842
٣١٨٤٢ - حدثنا عباد بن (العوام) (١) عن حجاج عن عمير بن سعيد أن عليًا كبر على يزيد بن المكفف أربعًا ثم قام على القبر فقال: اللهم عبدك وابن عبدك (٢) نزل ⦗٣٦٧⦘ بك اليوم وأنت خير منزول به، اللهم وسع له (مدخله) (٣) واغفر له ذنبه، فإنا لا نعلم إلا خيرًا وأنت أعلم به (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمیر بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یزید بن مکفف کے جنازہ پر چار تکبیریں پڑھیں، پھر آپ نے اس کی قبر پر کھڑے ہو کر یوں دعا فرمائی ! اے اللہ ! یہ تیرا بندہ ہے اور تیرے بندے کا بیٹا ہے۔ آج یہ تیرا مہمان بنا ہے اور تو بہترین مہمان نواز ہے۔ اے اللہ ! اس کی قبر کو کشادہ کر دے، اور اس کے گناہ کو معاف فرما دے۔ پس بیشک ہم نہیں جانتے مگر بھلائی اور تو اس بارے میں زیادہ جاننے والا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31842
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31842، ترقيم محمد عوامة 30472)
حدیث نمبر: 31843
٣١٨٤٣ - حدثنا ابن نمير عن (ابن) (١) جريج عن ابن أبي مليكة قال: لما فرغ من قبر عبد اللَّه بن السائب قام ابن عباس على القبر فوقف عليه ثم دعا ثم انصرف (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عبد اللہ بن سائب کی قبر برابر کر کے فارغ ہوئے۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کی قبر پر کھڑے ہوئے۔ پس آپ اس پر کافی دیر کھڑے رہے، پھر آپ نے دعا کی اور واپس لوٹ گئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31843
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31843، ترقيم محمد عوامة 30473)
حدیث نمبر: 31844
٣١٨٤٤ - حدثنا ابن علية قال: رأيت أيوب يقوم على القبر فيدعو للميت وربما رأيته يدعو له وهو في القبر قبل أن يخرج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایوب کو ایک قبر پر کھڑے ہوئے دیکھا پھر آپ نے میت کے لیے دعا کی، اور کئی مرتبہ میں نے ان کو دیکھا کہ دفنانے والا ابھی قبر میں ہوتا اور ا س کے نکلنے سے پہلے آپ میت کے لیے دعا فرماتے ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31844
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31844، ترقيم محمد عوامة 30474)