کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو موت کی دعا کرنے کو ناپسند کرتا ہے اور اس سے روکتا ہے
٣١٨٤٥ - حدثنا (عبد) (١) اللَّه بن إدريس عن إسماعيل عن قيس قال: دخلنا على خباب وقد اكتوى سبع كيات في بطنه، فقال: لولا أن رسول اللَّه ﷺ نهانا أن ندعو بالموت لدعوت به (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ ہم حضرت خباب کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اس حال میں کہ انہوں نے اپنے پیٹ میں سات جگہ داغ لگوائے تھے، پس فرمانے لگے ۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ فرمایا ہوتا تو میں ضرور اس کی دعا کرتا۔
٣١٨٤٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (أبي) (١) ظبيان قال: كنت جالسا عند ابن عمر فسمع (رجلًا) (٢) يتمنى الموت، قال: فرفع إليه ابن عمر بصره فقال: ⦗٣٦٨⦘ (لا تمن) (٣) الموت فإنك ميت، ولكن (سل) (٤) اللَّه العافية (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ظبیان فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا پس آپ نے ایک آدمی کو موت کی تمنا کرتے ہوئے سنا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی آنکھیں فوراً اس کی طرف اٹھائیں پھر فرمایا : تو موت کی خواہش مت کر، تو نے مرنا تو ہے، لیکن تو اللہ سے عافیت کا سوال کر۔
٣١٨٤٧ - حدثنا عبيدة بن حميد عن حميد عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يتمنى أحدكم الموت لضر نزل به في الدنيا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کوئی بھی شخص دنیا میں اترنے والی کسی مصیبت و تکلیف کی وجہ سے موت کی خواہش نہ کرے۔