کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو یوں کہے: مسلمان کی دعا مقبول ہے جب تک کہ وہ ظلم یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے
٣١٨٠٨ - حدثنا جعفر بن عون عن مسعر (عن أبي حصين) (١) عن ذكوان عن أبي هريرة قال: دعوة المسلم مستجابة ما لم يدع بظلم، أو قطيعة رحم، أو يقول: قد دعوت فلم أجب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ذکوان فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے ارشاد فرمایا : مسلمان کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک وہ ظلم کی دعا نہ کرے یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے یا یوں کہے تحقیق میں نے دعا کی پس قبول نہیں کی گئی۔
٣١٨٠٩ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن عاصم عن عبيد مولى (أبي رُهْم) (١) قال: مررت (على) (٢) أبي هريرة على نخل فقال: اللهم أطعمنا من ثمر لا (يأبره بنو) (٣) آدم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید جو کہ ابو رھم کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں : کہ حضرت ابوہریرہ کے ساتھ میرا گزر کھجور کے درخت پر ہو اتو آپ نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! ہمیں کھلا ایسی کھجو ر جس کو بنو آدم درست نہیں کرتا یعنی جنت کا پھل کھلا۔