کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جنازہ کی نماز میں یوں دعا کی جائے گی
حدیث نمبر: 31761
٣١٧٦١ - حدثنا زيد بن حباب قال: حدثنا معاوية بن صالح قال: حدثني حبيب ابن عبيد الكلاعي عن جبير بن نفير الحضرمي عن عوف بن مالك الأشجعي قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول على الميت: "اللهم اغفر له، وارحمه، وعافه، واعف عنه، وأكرم نزله، وأوسع مدخله، واغسله بالماء والثلج والبرد، ونقه من الخطايا كما تنقي الثوب الأبيض من الدنس، اللهم أبدله دارًا خيرًا من داره، وزوجًا خيرًا من زوجه، وأهلًا خيرًا من أهله، وأدخله الجنة، ونجه من النار"، أو قال: "قه عذاب (النار) (١) "، حتى تمنيت أن أكون أنا هو (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوف بن مالک الاشجعی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک میت پر یوں دعا فرماتے ہوئے سنا : اے اللہ ! اس کی مغفرت فرما۔ اور اس پر رحم فرما۔ اور اس کو عافیت بخش اور اس سے درگزر فرما۔ اور اپنے مہمان کا اکرام فرما۔ اور اس کے داخل ہونے والی جگہ کو وسعت دے دے اور اس کو پانی سے اور برف سے اور ٹھنڈے پانی سے دھو دے۔ اور اس کو گناہوں سے ایسے پاک صاف کر دے جیسا سفید کپڑے کو گندگی سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ ! اس کے گھر سے بہتر گھر کا بدل عطا فرما۔ اور اس کی بیوی سے بہتر بیوی کا اسے بدل عطا فرما۔ اور اس اہل و عیال سے بہتر اہل و عیال کا اسے بدل عطا فرما۔ اور اس کو جنت میں داخل فرما۔ اور اسے جہنم سے نجات دے یا یوں فرمایا : اور اس کو جہنم کے عذاب سے بچا۔ یہاں تک کہ میں تمنا کرنے لگا کہ وہ مردہ میں ہوتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31761
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٩٦٣)، وأحمد (٢٣٩٧٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31761، ترقيم محمد عوامة 30395)
حدیث نمبر: 31762
٣١٧٦٢ - حدثنا أبو أسامة قال: (حدثنا) (١) هشام الدستوائي عن يحيى بن ⦗٣٣٩⦘ أبي كثير عن (٢) إبراهيم الأنصاري عن أبيه أنه سمع رسول اللَّه ﷺ (يقول) (٣): في الصلاة على الميت: "اللهم اغفر لحينا وميتنا، وشاهدنا وغائبنا، وذكرنا وأنثانا وصغيرنا وكبيرنا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم انصاری فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک میت پر نماز جنازہ میں یوں دعا کرتے ہوئے سنا ہے ؟ اے اللہ ! بخش دے ہمارے ہر زندہ کو اور ہمارے ہر متوفی کو، اور ہمارے ہر حاضر کو اور ہمارے ہر غیر حاضر کو اور ہمارے ہر مرد کو اور ہماری ہر عورت کو اور ہمارے ہر چھوٹے کو اور ہمارے ہر بڑے کو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31762
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31762، ترقيم محمد عوامة 30396)
حدیث نمبر: 31763
٣١٧٦٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن شعبة عن (الجلاس) (١) عن عثمان بن (شماس) (٢) قال: كنا عند أبي هريرة فمر به مروان فقال: بعض حديثك عن رسول اللَّه ﷺ، ثم مضى ثم رجع (فقلنا) (٣) الآن يقع به، فقال: كيف (سمعت) (٤) رسول اللَّه ﷺ يصلي على الجنازة؟ قال: سمعته يقول (٥): "أنت (هديتها) (٦) للإسلام وأنت قبضت روحها، تعلم سرها وعلانيتها، (جئنا) (٧) شفعاء فاغفر لها" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن شماس فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابوہریرہ کے پاس تھے۔ کہ مروان کا ان کے پاس سے گزر ہوا۔ تو وہ آپ سے کہنے لگا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کریں، پھر وہ چلا گیا ، پھر تھوڑی دیر بعد لوٹا، توہم نے کہا : اب یہ ان کے ساتھ بیٹھ جائے گا، پس وہ کہنے لگا، آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز جنازہ پر کیا دعا پڑھتے ہوئے سنا ہے ؟ آپ نے فرمایا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا ہے : تو نے ہی اس کو اسلام کی ہدایت دی اور تو نے ہی اس کی روح کو قبض کیا۔ تو ہی اس کی پوشیدہ باتوں کو اور کھلی ہوئی باتوں کو جانتا ہے، ہم تو تیرے پاس اس کی شفاعت کرنے والے بن کر آئے ہیں ، پس تو اس کی مغفرت فرما دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31763
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31763، ترقيم محمد عوامة 30397)
حدیث نمبر: 31764
٣١٧٦٤ - حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى عن رجل من أهل مكة عن أبي سلمة قال: كان رسول اللَّه ﷺ يقول في الصلاة على الجنازة: "اللهم اغفر لحينا وميتنا وذكرنا وأنثانا وشاهدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا، اللهم من أحييته منا فأحيه على (الإيمان) (١) ومن توفيته منا فتوفه على (الإسلام) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز جنازہ میں یہ دعا پڑھتے تھے : اے اللہ ! تو بخش دے ہمارے ہر زندہ کو اور ہمارے ہر متوفی کو اور ہمارے ہر مرد کو اور ہماری ہر عورت کو اور ہمارے ہر حاضر کو اور ہمارے ہر غیر حاضر کو اور ہمارے ہر چھوٹے کو اور ہمارے ہر بڑے کو۔ اے اللہ ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے تو پس ایمان پر اس کو زندہ رکھنا : اور ہم میں سے تو جس کو موت دے تو پس ایمان پر اس کو موت دینا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31764
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل مجهول؛ أبو سلمة تابعي، والرجل مبهم، أخرجه أحمد (١٧٥٨٠)، وعبد الرزاق (٦٤١٩)، والطبراني في الدعاء (١١٧١)، وورد متصلًا من حديث أبي سلمة عن أبي هريرة أخرجه أحمد (٨٧٩٥)، وأبو داود (٣٢٠١)، والترمذي (١٠٢٤)، وابن ماجه (١٤٩٧)، والنسائي في الكبرى (١٠٩١٩)، وابن حبان (٣٠٧٠)، وأبو يعلى (٦٠٠٩)، والطبراني في الدعاء (١١٧٢)، والبيهقي ٤/ ٤١، كما ورد من حديث أبي سلمة عن عائشة، أخرجه النسائي (١٠٩١٨)، والحاكم ١/ ٥١١، والبيهقي ٤/ ٤١، وورد من طريق أبي سلمة عن عبد اللَّه بن سلام أخرجه النسائي (١٠٩٢١)، وورد من طريق أبي سلمة عن الرحمن بن عون أخرجه البزار (١٠٤٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31764، ترقيم محمد عوامة 30398)
حدیث نمبر: 31765
٣١٧٦٥ - حدثنا محمد بن فضيل عن حصين عن أبي مالك قال: كان أبو بكر إذا صلى على الميت قال: اللهم عبدك [(أسلم) (١) [الأهل] (٢) والمال] (٣) (والعشيرة) (٤) والذنب عظيم وأنت غفور رحيم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مالک فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر جب کسی میت پر نماز جنازہ پڑھاتے تو یوں فرماتے ! اے اللہ ! تیری بندہ ہے ، گھر والوں اور مال اور خاندان نے اس کو سپرد کیا، اور بہت گناہ ہیں، اور تو بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31765
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31765، ترقيم محمد عوامة 30399)
حدیث نمبر: 31766
٣١٧٦٦ - حدثنا أبو الأحوص عن طارق عن سعيد بن المسيب قال: كان عمر ⦗٣٤١⦘ يقول في الصلاة (١) إن كان أمسى قال: اللهم أمسى عبدك، وإن كان صباحا قال: اللهم أصبح عبدك قد تخلى من الدنيا وتركها لأهلها، واستغنيت عنه وافتقر إليك، كان يشهد أن لا إله إلا أنت وأن محمدا عبدك ورسولك، فاغفر (له) (٢) (ذنبه) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر اگر شام ہوتی تو نماز جنازہ میں یوں دعا کرتے : اے اللہ ! تیرے بندے نے شام کی۔ اور اگر صبح کا وقت ہوتا تو یوں دعا کرتے ! اے اللہ ! تیرے بندے نے صبح کی، تحقیق اس نے دنیا کو چھوڑ دیا، اور اس نے دنیا کو دنیا والوں کے لیے چھوڑ دیا، اور تو اس سے بےنیاز ہے اور وہ تیرا محتاج ہے، وہ گواہی دیتا تھا کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور یقینا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، پس تو اس کے گناہوں کی مغفرت فرما دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31766
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31766، ترقيم محمد عوامة 30400)
حدیث نمبر: 31767
٣١٧٦٧ - حدثنا أبو الأحوص عن منصور عن عبد اللَّه (بن) (١) عبد الرحمن بن أبزى قال: كان علي يقول في الصلاة على الميت: اللهم اغفر لأحيائنا وأمواتنا، وألف بين قلوبنا، وأصلح ذات بيننا، واجعل قلوبنا على قلوب خيارنا، اللهم اغفر له، (اللهم ارحمه) (٢)، اللهم ارجعه إلى خير (مما) (٣) كان فيه، اللهم عفوك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عبد الرحمن بن ابزی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نماز جنازہ میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے : اے اللہ ! تو بخش دے ہمارے زندوں کو اور ہمارے مردوں کو ۔ اور ہمارے دلوں کے درمیان جوڑ پیدا فرما۔ اور ہم لوگوں کے آپس کے معاملات درست فرما۔ اور ہمارے دلوں کو ہمارے بہترین لوگوں کے دلوں جیسا بنا دے، اے اللہ ! تو اس کو معاف فرما دے اے اللہ ! تو اس پر رحم فرما۔ اے اللہ ! تو اس کو لوٹا دے ایسی بھلائی کی طرف جس میں وہ پہلے تھا۔ اے اللہ ! تیری معافی کے طلب گار ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31767
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31767، ترقيم محمد عوامة 30401)
حدیث نمبر: 31768
٣١٧٦٨ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن خالد قال: كنت في جنازة (غنيم) (١) فحدثني رجل (عنه) (٢) أنه قال: سمعت أبا موسى صلى على ميت فكبر فقال: اللهم اغفر له كما استغفرك وأعطه ما سألك وزده من فضلك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد فرماتے ہیں کہ میں حضرت غنیم کے جنازہ میں حاضر تھا تو ایک شخص نے مجھے ان کے حوالے سے بیان کیا کہ حضرت غنیم نے فرمایا : میں نے حضرت ابو موسیٰ کو ایک میت پر نماز جنازہ کے لیے تکبیر کہتے ہوئے سنا پھر آپ نے یوں دعا کی : اے اللہ ! تو اس کو بخش دے جیسا کہ اس نے تجھ سے بخشش مانگی، اور اس کو عطا فرما وہ چیز جس کا اس نے تجھ سے سوال کیا، اور اس میں اپنے فضل سے زیادتی فرما۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31768
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31768، ترقيم محمد عوامة 30402)
حدیث نمبر: 31769
٣١٧٦٩ - حدثنا عبدة بن سليمان عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة قال: قال عبد اللَّه بن سلام: الصلاة على الجنازة أن تقول: اللهم اغفر لحينا وميتنا، وصغيرنا وكبيرنا، وذكرنا وأنثانا، وشاهدنا وغائبنا، اللهم من توفيته منا فتوفه على الإيمان، ومن (أبقيته) (١) منا فأبقه على الإسلام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن سلام نے ارشاد فرمایا : نماز جنازہ میں تو یہ دعا کر : اے اللہ ! تو بخش دے ہمارے ہر زندہ کو اور ہمارے ہر متوفی کو، اور ہمارے ہر چھوٹے کو اور ہمارے ہر بڑے کو ، اور ہمارے ہر مرد کو اور ہماری ہر عورت کو اور ہمارے ہر حاضر کو اور ہمارے ہر غیر حاضر کو۔ اے اللہ ! ہم میں سے جسے تو موت دے تو پس اس کو ایمان پر موت دینا۔ اور ہم میں سے جس کو تو باقی رکھے تو اسلام پر اس کو باقی رکھنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31769
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31769، ترقيم محمد عوامة 30403)
حدیث نمبر: 31770
٣١٧٧٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن زيد العمي عن أبي الصديق الناجي قال: (سألت) (١) أبا سعيد عن الصلاة على الجنازة، (فقال) (٢): كنا نقول: اللهم (أنت) (٣) ربنا وربه خلقته ورزقته (٤) أحييته (وكفيته) (٥) فاغفر لنا وله، ولا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الصدیق الناجی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعید سے نماز جنازہ کے متعلق سوا ل کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ہم یوں دعا کرتے تھے : اے اللہ ! آپ ہمارے پروردگار ہیں اور اس کے بھی پروردگار ہیں، آپ ہی نے اس کو پیدا کیا اور آپ ہی نے اس کو رزق دیا ، اور آپ ہی نے اس کو زندہ کیا اور آپ ہی نے اس کو کفایت فرمائی، پس آپ ہماری اور اس کی مغفرت فرما دیجئے۔ اور ہمیں اس کے اجر سے محروم مت فرمائیے اور ہمیں اس کے بعد گمراہ مت کیجیے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31770
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف زيد العمي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31770، ترقيم محمد عوامة 30404)
حدیث نمبر: 31771
٣١٧٧١ - حدثنا (١) عفان بن مسلم قال: حدثنا أبو (عوانة) (٢) قال: حدثنا خالد عن عبد اللَّه بن الحارث عن ابن (عمرو) (٣) بن غيلان عن أبي الدرداء أنه كان يقول في الصلاة على الميت: اللهم اغفر (لأحيائنا) (٤) وأمواتنا المسلمين، اللهم اغفر ⦗٣٤٣⦘ للمؤمنين والمؤمنات والمسلمين والمسلمات وأصلح ذات بينهم، (وألف) (٥) بين قلوبهم، واجعل قلوبهم على قلوب (أخيارهم) (٦)، اللهم اغفر لفلان بن فلان ذنبه، وألحقه بنبيه محمد ﷺ، اللهم ارفع درجته في (المهتدين) (٧)، واخلفه في عقبه في الغابرين، واجعل كتابه في عليين، واغفر لنا وله يا رب العالمين، اللهم لا تحرمنا أجره ولا (تضلنا) (٨) بعده (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما و بن غیلان فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الداردائ نماز جنازہ میں یہ دعا پڑھتے تھے : اے اللہ ! تو بخش ہمارے زندہ اور مردہ مسلمانوں کو۔ اے اللہ ! تو مؤمنند مردوں اور مؤمنین عورتوں کی بخشش فرما، اور مسلمانوں مردوں اور مسلمان عورتوں کی بھی، اور ن کے آپس کے معاملات کو درست فرما، اور ان کے دلوں کو ان کے بہترین لوگوں کے دلوں جیسا بنا دے، اے اللہ ! فلاں بن فلاں کے گناہوں کی بخشش فرما اور اس کو اپنے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ملا دے۔ اے اللہ ! ہدایت یافتہ لوگوں میں اس کے درجہ کو بلند فرما، اور اس پیچھے رہ جانے والے باقی ماندہ لوگوں میں تو اس کا جانشین بن جا، اور اس کے نامۂ اعمال کو علیین میں رکھ دے، تمام جہانوں کے پروردگار ہماری اور اس کی مغفرت فرما دے، اے اللہ ! ہمیں اس کے اجر سے محروم مت فرما، اور ہمیں اس کے بعد گمراہی میں مت ڈال۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31771
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31771، ترقيم محمد عوامة 30405)
حدیث نمبر: 31772
٣١٧٧٢ - حدثنا أبو أسامة عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر أنه كان يقول في الجنازة إذا صلى عليه: اللهم بارك فيه وصل عليه واغفر له وأورده حوض رسولك ﷺ، قال في قيام كبير وكلام كثير (لم) (١) أفهم منه غير هذا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی پر جنازے کی نماز پڑھتے تو یوں دعا فرماتے ! اے اللہ ! اس میں برکت عطا فرما اور اس پر رحمت بھیج۔ اور اس کی مغفرت فرما۔ اور اس کو اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوض کوثر میں وارد کر۔ راوی کہتے ہیں، بڑے قیام اور زیادہ کلام مں ھ سے میں اس کے علاوہ کچھ نہ سمجھ سکا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31772
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31772، ترقيم محمد عوامة 30406)
حدیث نمبر: 31773
٣١٧٧٣ - حدثنا إسحاق بن سليمان عن (حريز) (١) عن عبد الرحمن (بن) (٢) أبي عوف (٣) عن ابن (لحي) (٤) الهوزني أنه شهد جنازة شرحبيل بن (السمط) (٥) فقدم عليها حبيب بن مسلمة الفهري فأقبل علينا كالمشرف علينا من طوله فقال: اجتهدوا ⦗٣٤٤⦘ لأخيكم في الدعاء وليكن مما تدعون له: اللهم اغفر لهذه النفس (الحنيفية) (٦) واجعلها (في) (٧) الذين تابوا واتبعوا سبيلك، وقها عذاب الجحيم واستنصروا (اللَّه) (٨) على عدوكم (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی عوف فرماتے ہیں کہ حضرت ابو لحی ّ الھوزنی، شرحبیل بن السمط کے جنازہ میں حاضر ہوئے۔ تو جنازہ پر حبیب بن مسلمہ فہری کو آگے کردیا گیا، پھر وہ ہماری طرف متوجہ ہوا جیسا کہ کسی لمبائی سے ہماری طرف آ رہا ہو، تو آپ نے فرمایا : تم اپنی بھائی کے لیے دعا میں کوشش کرو۔ اور تم ہو جاؤ اس کے لیے یوں دعا کرنے والے، اے اللہ ! تو اس پاکباز مسلمان کی مغفرت فرما۔ اور تو بنا دے اسے ان لوگوں میں سے جنہوں نے توبہ کی اور تیرے راستہ کی پیروی کی۔ اور اس کو جہنم کے عذاب سے بچا۔ اور تم لوگ اپنے دشمن کے برخلاف مدد مانگو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31773
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31773، ترقيم محمد عوامة 30407)