٣١٧٧٤ - حدثنا حفص عن حجاج عن أبي الزبير عن جابر قال: ما باح لنا رسول اللَّه ﷺ ولا أبو بكر ولا عمر في الصلاة على الميت بشيء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ہمارے لیے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ ہی حضرت ابوبکر نے اور نہ ہی حضرت عمر نے نماز جنازہ کے لیے کوئی چیز ظاہر فرمائی۔
٣١٧٧٥ - حدثنا حفص عن حجاج عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده (عن) (١) (ثلاثين من أصحاب) (٢) رسول اللَّه ﷺ أنهم لم (يقوموا) (٣) في أمر (الصلاة على) (٤) الجنازة (بشيء) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تیس اصحاب سے نقل کرتے ہیں ! کہ انہوں نے نماز جنازہ میں کوئی چیز متعین نہیں فرمائی۔
٣١٧٧٦ - حدثنا حفص بن غياث عن الأعمش عن إبراهيم قال: ليس في الصلاة على الميت دعاء مؤقت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے فرمایا؛ میت پر پڑھی جانے والی نماز میں کوئی دعا متعین نہیں۔
٣١٧٧٧ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن داود عن سعيد بن المسيب والشعبي قال: ليس على الميت دعاء مؤقت.
مولانا محمد اویس سرور
داؤد فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن المسیب اور حضرت شعبی نے فرمایا : میت پر پڑھی جانے والی نماز میں کوئی دعا متعین نہیں ہے۔
٣١٧٧٨ - حدثنا غندر عن عمران بن حدير قال: سألت محمدا عن الصلاة على الميت فقال: ما نعلم لها شيئًا (مؤقتًا) (١) ادع بأحسن ما تعلم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حدیر فرماتے ہیں کہ میں نے محمد سے نماز جنازہ کے متعلق سوال کیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا : ہمیں نہیں معلوم کہ اس میں کسی دعا کو متعین کیا گیا ہو، جو اچھی دعا تم جانتے ہو اس کے ذریعہ دعا کرو۔
٣١٧٧٩ - حدثنا معتمر عن إسحاق بن سويد عن بكر بن عبد اللَّه قال: ليس في الصلاة (على الميت) (١) شيء (مؤقت) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسحاق بن سوید فرماتے ہیں کہ حضرت بکر بن عبد اللہ نے ارشاد فرمایا : نماز جنازہ میں کوئی چیز متعین نہیں کی گئی۔
٣١٧٨٠ - حدثنا يعلى بن عبيد عن موسى الجهني قال: سألت الشعبي والحكم وعطاء ومجاهدا في الصلاة شيء (مؤقت) (١) قالوا: لا إنما أنت شفيع، فاشفع بأحسن ما تعلم.
مولانا محمد اویس سرور
موسیٰ الجہنی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی اور حضرت حکم اور حضرت عطا، حضرت مجاہد سے سوال کیا :َ کیا نماز جنازہ میں کوئی چیز متعین ہے ؟ ان سب حضرات نے جواب دیا : نہیں ! بیشک تم تو شفاعت کرنے والے ہو۔ جو دعا تم زیادہ اچھی جانتے ہو اس کے ذریعہ شفاعت کرو۔