حدیث نمبر: 31719
٣١٧١٩ - حدثنا إسماعيل بن علية عن عمرو بن دينار القهرماني عن سالم بن عبد اللَّه بن عمر عن أبيه قال: ما من رجل يرى مبتلي فيقول: الحمد للَّه الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني عليك وعلى كثير من خلقه تفضيلا، إلا عافاه اللَّه من ذلك البلاء (كائنا) (١) ما كان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : کوئی بھی آدمی کسی کو مصیبت میں مبتلا دیکھ کر یہ دعا نہیں پڑھتا : شکر ہے اللہ کا جس نے مجھے اس چیز سے عافیت میں رکھا جس میں تجھ کو مبتلا کیا ہے، اور مجھے تجھ پر اور بہت سی مخلوق پر نمایاں طور پر فضیلت دی۔ مگر یہ کہ اللہ اس بندے کو اس مصیبت میں مبتلا نہیں فرمائیں گے وہ مصیبت جیسی بھی ہو۔