کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: زنا کی گواہی دینے کے بیان میں کہ وہ کیسے دی جائے گی؟
حدیث نمبر: 30743
٣٠٧٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن التيمي عن أبي عثمان قال: لما (شهد) (١) أبو بكرة وصاحباه على المغيرة، جاء زياد فقال له عمر: رجل لن يشهد إن شاء اللَّه إلا بحق، قال: رأيت انبهارًا ومجلسًا سيئًا فقال عمر: هل رأيت المرود دخل المُكْحُلَة؟ قال: لا، قال: فأمر بهم فجلدوا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکرہ اور ان کے دو ساتھیوں نے حضرت مغیرہ کے خلاف گواہی دے دی تو زیاد آئے حضرت عمر نے ان سے فرمایا : ایک آدمی ہرگز گواہی نہیں دے گا ان شاء اللہ مگر حق بات کی۔ اس نے کہا : میں نے حیران کن بات اور بری مجلس دییھت اس پر حضرت عمر نے پوچھا کیا تو نے سلائی کو سرمہ دانی میں داخل ہونے کی طرح دیکھا ؟ اس نے کہا نہیں حضرت عمر نے ان کے متعلق حکم دیا تو ان سب کو کوڑے مارے گئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30743
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30743، ترقيم محمد عوامة 29419)
حدیث نمبر: 30744
٣٠٧٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا حماد بن زيد عن يحيى بن عتيق عن ابن سيرين أن أناسًا شهدوا على رجل في زنا قال: فقال عثمان ⦗٥١٠⦘ بيده: هكذا تشهدون أنه: (و) (١) جعل يدخل إصبعه السبابة في إصبعه اليسرى وقد عقدها عشرًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ چند لوگوں نے ایک آدمی کے خلاف زنا کی گواہی دی تو حضرت عثمان نے اپنا ہاتھ اس طرح کر کے فرمایا : تم اس بات کی گواہی دیتے ہو، اور آپ نے اپنی شہادت کی انگلی کو اپنی بائیں انگلی میں ڈالا اور دس کا عدد بنایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30744
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30744، ترقيم محمد عوامة 29420)
حدیث نمبر: 30745
٣٠٧٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن عوف عن قسامة بن زهير قال: لما كان من شأن أبي بكرة والمغيرة بن شعبة الذي كان، قال أبو (بكرة) (١): (اجتنب) (٢) أو تنح عن صلاتنا، فإنا لا نصلي خلفك، قال: فكتب (إلى) (٣) عمر في شأنه، قال: فكتب (عمر) (٤) إلى (المغيرة) (٥): أما بعد، فإنه قد رقى إلي من حديثك حديثًا (٦)، فإن يكن مصدوقا عليك (فلأن تكون) (٧) مت قبل اليوم خير لك، قال: فكتب إليه وإلى الشهود: أن يقبلوا إليه، فلما انتهوا إليه دعا الشهود، فشهدوا، فشهد أبو بكرة وشبل ابن معبد وأبو عبد اللَّه نافع، (قال) (٨): فقال عمر حين (شهد) (٩) هؤلاء الثلاثة: (أودى) (١٠) المغيرة أربعة، وشق على عمر شأنه جدًا، ⦗٥١١⦘ فلما قام زياد قال: (لن) (١١) تشهد إن شاء اللَّه إلا بحق، ثم شهد (فقال) (١٢): أما الزنا فلا أشهد به، ولكني (قد) (١٣) رأيت أمرًا قبيحًا، فقال عمر: اللَّه أكبر حدوهم، فجلدوهم، فلما فرغ من جلد أبي بكرة قام أبو بكرة فقال: أشهد أنه زان، (فهم) (١٤) عمر (أن) (١٥) يعيد عليه الحد، فقال علي: إن جلدته فارجم صاحبك (١٦)، فتركه فلم يجلد (في) (١٧) قذف مرتين بعد (١٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قسامہ بن زھیر فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکرہ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ کا معاملہ ہوا تھا تو وہ اس طرح تھا حضرت ابو بکرہ نے کہا : دور رہو ہماری نمازوں سے بیشک ہم تمہارے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے سو حضرت مغیرہ نے ان کے بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا : حضرت عمر نے حضرت مغیرہ کو جواب لکھا کہ : حمدو صلوٰۃ کے بعد بیشک اس نے مجھے تمہاری باتوں میں سے ایک بات پہنچائی ہے پس اگر وہ تمہارے خلاف سچی ہے تو ضرور تمہارا آج کے دن سے پہلے مرجانا تمہارے لیے بہتر تھا۔ اور پھر آپ نے ان کو اور گواہوں کو خط لکھا کہ وہ سب میرے پاس آئیں۔ پس جب وہ سب لوگ حضرت عمر کے پاس پہنچ گئے تو آپ نے گواہوں کو بلایا سو انہوں نے گواہی دی پس حضرت ابو بکرہ ، حضرت شبل بن معبد اور ابو عبداللہ نافع نے گواہی دی راوی کہتے ہیں : جب یہ تینوں گواہی دے چکے تو حضرت عمر نے فرمایا : مغیرہلاک ہوگیا چوتھے آدمی آئے ! اور حضرت عمر پر ان کی یہ حالت بہت بھاری گزری۔ سو جب زیاد کھڑا ہوا تو آپ نے فرمایا : یہ ہرگز گواہی نہیں دے گا ان شاء اللہ مگر حق بات کی پھر اس نے گواہی دی اور کہا : جہاں تک زنا کا تعلق ہے تو میں اس کی گواہی نہیں دیتا لیکن تحقیق میں نے فحش معاملہ دیکھا ہے اس پر حضرت عمر نے فرمایا : اللہ اکبر ان تینوں کو کوڑے مارو سو آپ نے ان کو کوڑے مارے پس جب حضرت ابو بکرہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے : میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک وہ زانی ہے ! سو حضرت عمر ان پر دوبارہ حد جاری کرنے کے لیے جانے لگے اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تم اس کو کوڑے مارتے ہو تو اپنے ساتھی کو بھی سنگسار کرو ! پس حضرت عمر نے ان کو چھوڑ دیا اور ایک تہمت میں دو مرتبہ اس کے بعد کوڑے نہیں مارے گئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30745
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30745، ترقيم محمد عوامة 29421)
حدیث نمبر: 30746
٣٠٧٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو داود الطيالسي عن أبي خلدة قال: لقيني سعيد بن (أرطبان) (١) عم (ابن عون) (٢) فقال: (أتريد) (٣) أن تأتي أبا العالية؟ (قلت) (٤): نعم، قال: فقل له: شهد الحسن وابن سيرين وثابت البناني على امرأة ورجل أنهما زنيا، وأقرت المرأة وأنكر الرجل، فسألت أبا العالية عن ذلك فقال: ⦗٥١٢⦘ لقيت رجلًا من أهل الأهواء يَجلِد الحسنَ ثمانين ومحمدا ثمانين وثابتا ثمانين، وترجم المرأة باعترافها، ويذهب الرجل ليس عليه شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو خلدہ فرماتے ہیں کہ سعید بن ارطبان جو حضرت ابن عون کے چچا ہیں ان کی مجھ سے ملاقات ہوئی وہ کہنے لگے کیا تمہارا حضرت ابو العالیہ کے پاس جانے کا ارادہ ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں انہوں نے کہا ! تم ان سے کہنا حسن بصری ، حضرت ابن سیرین اور حضرت ثابت بنانی ان سب حضرات نے ایک آدمی اور ایک عورت کے خلاف گواہی دی ہے کہ ان دونوں نے زنا کیا ہے اور اس عورت نے اقرار کرلیا اور آدمی نے انکار کردیا تو کیا حکم ہے ؟ راوی کہتے ہیں، پس میں نے حضرت ابو العالیہ سے اس کے متعلق سوال کیاٖ انہوں نے فرمایا : تمہاری نفس پرستوں میں سے کسی آدمی سے ملاقات ہوئی ہے حسن بصری کو اسی کوڑے مارے جائیں گے اور محمد کو اسی کوڑے مارے جائیں گے اور ثابت بنانی کو اسی کوڑے اور اس عورت کو اعتراف کرنے کی وجہ سے سنگسار کردیا جائے گا اور آدمی چلا جائے گا اور اس پر کوئی سزا لاگو نہیں ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30746
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30746، ترقيم محمد عوامة 29422)
حدیث نمبر: 30747
٣٠٧٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) عن مغيرة عن الشعبي أن اليهود قالوا للنبي ﵇ (٢): ما حد ذلك -يعنون الرجم، قال: "إذا شهد) (٣) أربعة أنهم رأوه يدخل كلما يدخل الميل في المكحلة فقد وجب الرجم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا : اس کی حد کیا ہے یعنی سنگسار کرنے کی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب چار آدمی گواہی دے دیں کہ بیشک انہوں نے اس شخص کو داخل کرتے ہوئے دیکھا ہے جیسا کہ سلائی سرمہ دانی میں داخل کرتے ہیں تو تحقیق رجم ثابت ہوگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30747
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الشعبي تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30747، ترقيم محمد عوامة 29423)
حدیث نمبر: 30748
٣٠٧٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن الشيباني عن الشعبي قال: إذا شهد أربعة على شيء منعوا ظهورهم وجازت شهادتهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شیبانی فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : جب چار آدمیوں نے کسی چیز کی گواہی دی تو انہوں نے اپیب پشتوں کی حفاظت کرلی اور ان کی گواہی جائز ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30748
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30748، ترقيم محمد عوامة 29424)
حدیث نمبر: 30749
٣٠٧٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن جعفر عن أبيه قال: قال (علي) (١): ما أحب أن أكون أول الشهود الأربعة (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں پسند نہیں کرتا کہ میں چار میں سب سے پہلا گواہ ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30749
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30749، ترقيم محمد عوامة 29425)