کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوڑے کے بیان میں: جو اس بات کا حکم دیتے تھے کہ اس کو باریک کرلیا جائے
حدیث نمبر: 30591
٣٠٥٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن حنظلة السدوسي قال: سمعت أنس بن مالك (يقول: كان) (١) يؤمر بالسوط فتقطع ثمرته، ثم يدق بين حجرين (٢) ثم يضرب به، فقلت لأنس: في زمان من كان هذا؟ قال: في زمان عمر ابن الخطاب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حنظلہ سدوسی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا : کوڑے کے بارے میں حکم دیا جاتا تھا کہ اس کا نچلا کنارہ کاٹ دیا جائے پھر اس کو دو پتھروں کے درمیان رکھ کر باریک کرلیا جائے پھر اس سے مارا جائے۔ میں نے حضرت انس سے پوچھا : یہ کس کے زمانے میں ہوتا تھا ؟ آپ نے فرمایا : حضرت عمر بن خطاب کے زمانے میں۔
حدیث نمبر: 30592
٣٠٥٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي الحارث التيمي عن (أبي) (١) ماجد عن عبد اللَّه أنه دعا (بسوط) (٢) فدق ثمرته حتى (آضت) (٣) له (مخفقة) (٤) ودعا بجلاد فقال: أجلد (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ماجد فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے کوڑا منگوایا اور اس کے نچلے کنارے کو باریک کیا یہاں تک کہ وہ کوڑا باریک ہوگیا آپ نے جلاد کو بلایا اور فرمایا ! کوڑے مارو۔
حدیث نمبر: 30593
٣٠٥٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر (١) عن محمد بن عجلان عن زيد بن أسلم أن النبي ﷺ أتي برجل قد أصاب حدًا، فأتي (بسوط) (٢) جديد شديد، فقال: "دون هذا"، فأتي (بسوط) (٣) (منكسر) (٤) منتشر، فقال: فوق هذا، فأتي بسوط قد (ديث) (٥) -يعني: قد لين- فقال: هذا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے سزا پائی تھی، تو ایک نیا سخت قسم کا کوڑا لایا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس سے کم لاؤ تو ٹوٹا ہوا اور درمیان سے چیرا ہوا ایک کوڑا لایا گیا جس کو نرم بنایا گیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں یہ ٹھیک ہے۔