کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس چور کے بیان میں جس کو پکڑ کر لایا گیا اور اس سے یوں کہا گیا: کیا تو نے چوری کی ہے؟ کہہ دے: نہیں
حدیث نمبر: 30479
٣٠٤٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن علي بن الأقمر عن (يزيد) (١) بن أبي كبشة أن أبا الدرداء أتي بامرأة قد سرقت، فقال لها: سلامة أسرقت؟ قولي لا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن ابی کبشہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے چوری کی تھی۔ آپ نے اس سے فرمایا : اے سلامہ ! کیا تو نے چوری کی ہے ؟ کہہ دے : نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30479
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ يزيد بن أبي كبشة صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30479، ترقيم محمد عوامة 29167)
حدیث نمبر: 30480
٣٠٤٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن جابر عن مولى لأبي مسعود عن أبي مسعود قال: أتي برجل سرق، فقال: أسرقت؟ قل: وجدته، قال: وجدته فخلى سبيله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مسعود نے ارشاد فرمایا : ایک آدمی لایا گیا جس نے چوری کی تھی۔ آپ نے پوچھا : کیا تونے چوری کی ہے ؟ تو یوں کہہ دے : میں نے اس مال کو پایا ہے۔ اس نے کہہ دیا : میں نے اس مال کو پایا ہے۔ تو آپ نے اسے چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30480
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30480، ترقيم محمد عوامة 29168)
حدیث نمبر: 30481
٣٠٤٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا سعيد بن أبي عروبة عن سليمان الناجي عن أبي المتوكل أن أبا هريرة أتي بسارق وهو يومئذ (أمير) (١) فقال: أسرقت، أسرقت؟ قل: لا (٢)، لا، مرتين أو ثلاثًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو المتوکل فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ کے پاس ایک چور لایا گیا درآنحالیکہ ان دنوں آپ امیر تھے۔ آپ نے فرمایا : کا تو نے چوری کی ہے ؟ کیا تو نے چوری کی ہے ؟ یوں کہہ دو ، نہیں، نہیں، دو یا تین مرتبہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30481
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30481، ترقيم محمد عوامة 29169)
حدیث نمبر: 30482
٣٠٤٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن يزيد بن خصيفة عن محمد ابن عبد الرحمن بن ثوبان أن رجلًا سرق شملة فأتي به النبي ﷺ فقالوا: يا رسول ⦗٤٤٥⦘ اللَّه (١) هذا (سرق) (٢) شملة، فقال: "ما أخاله سرق" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان فرماتے ہیں کہ ایک آدی نے چادر چوری کی تو اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا لوگ کہنے لگے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس نے چادر چوری کی ہے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرا گمان نہیں ہے کہ اس نے چوری کی ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30482
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان تابعي، أخرجه أبو داود في المراسيل (٢٤٤)، وعبد الرزاق (١٣٥٨٣)، والطحاوي ٣/ ١٦٨، وأبو عبيد في غريب الحديث ٢/ ٢٥٨، وأبو يوسف في الخراج ص ١٧٦، والبيهقي ٨/ ٢٧١، وورد من حديث ابن ثوبان عن أبي هريرة أخرجه الحاكم ٤/ ٣٨١، والطحاوي ٣/ ١٦٨، والدارقطني ٣/ ١٠٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30482، ترقيم محمد عوامة 29170)
حدیث نمبر: 30483
٣٠٤٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن بن صالح عن (غالب) (١) أبي الهذيل قال: سمعت (سُميعا) (٢) أبا سالم يقول: شهدت الحسن ابن علي وأتي برجل أقر بسرقة، فقال له الحسن: لعلك اختلست، لكي يقول: لا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سبیع ابو سالم فرماتے ہیں کہ میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا درآنحالیکہ ایک چور لایا گیا جس نے چوری کا اقرار کیا تھا اس پر حضرت حسن نے اس سے فرمایا : شاید کہ تو نے دھوکہ سے چھین لیا ہوتا کہ وہ یوں کہہ دے کہ نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30483
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30483، ترقيم محمد عوامة 29171)
حدیث نمبر: 30484
٣٠٤٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن عكرمة ابن خالد قال: أتى عمر بسارق قد اعترف، فقال عمر: (إني) (١) لأرى يد رجل ما هي بيد سارق، قال الرجل: واللَّه ما أنا بسارق، فأرسله عمر ولم يقطعه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ بن خالد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے چوری کا اعتراف کیا تھا اس پر حضرت عمر نے فرمایا : بیشک میری رائے یہ ہے کہ اس آدمی کا ہاتھ یہ چور کا ہاتھ نہیں ہے، اس آدمی نے کہا : اللہ کی قسم : میں چور نہیں ہوں، سو حضرت عمر نے اسے چھوڑ دیا اور اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30484
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30484، ترقيم محمد عوامة 29172)
حدیث نمبر: 30485
٣٠٤٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن عطاء يقول: كان من مضى يؤتى بالسارق فيقول: أسرقت؟ (١) ولا (أعلمه) (٢) إلا ⦗٤٤٦⦘ (سمى) (٣) أبا بكر وعمر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء نے ارشاد فرمایا : گزرے ہوئے لوگوں میں سے جن کے پاس چور لایا جاتا تھا وہ پوچھتے تھے : کیا تو نے چوری کی ہے ؟ اور میں نہیں جانتا ان کے بارے میں مگر یہ کہ آپ نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کا نام لیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30485
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30485، ترقيم محمد عوامة 29173)
حدیث نمبر: 30486
٣٠٤٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن ابن عون قال: حدثني مسكين رجل من أهلي قال: شهدت عليًا أتي برجل وامرأة وجدا في خربة فقال له علي: أقربتها؟ فجعل أصحاب علي يقولون له: (قل) (١): لا، فقال: لا، فخلى سبيله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حضرت مسکین نے جو میرے گھر کے ایک فرد ہیں، مجھے بیان کیا کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا کہ ایک آدمی اور عورت کو لایا گیا جو دونوں ویران جگہ میں پائے گئے تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس آدمی سے پوچھا : کیا تو اس عورت کے قریب ہوا تھا ؟ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہمنشینوں نے کہا : کہہ دے : نہیں اس آدمی نے کہا نہیں تو آپ نے اسے چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30486
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30486، ترقيم محمد عوامة 29174)
حدیث نمبر: 30487
٣٠٤٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن المبارك عن معمر (١) عن يحيى عن عكرمة (عن) (٢) ابن عباس أن النبي ﷺ قال لماعز بن مالك: "لعلك قبلت أو لمست أو باشرت" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ماعز بن مالک سے فرمایا : شاید کہ تو نے بوسہ لیا ہو یا چھوا ہو یا تو صرف اس سے گلے ملا ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30487
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٨٢٤)، وأخرجه أحمد (٢٣١٠) من طريق المؤلف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30487، ترقيم محمد عوامة 29175)