کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس غلام کے بیان میں جو اپنے آقا کے مال میں سے چوری کرلے، اس پر کیا سزا جاری ہوگی؟
حدیث نمبر: 30473
٣٠٤٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن السائب بن يزيد أن عبد اللَّه بن (عمرو) (١) بن الحضرمي قال: أتيت عمر بغلام لي فقلت: أقطعه، قال: وما له؟ قلت: سرق (مرآة) (٢) لامرأتي خير من ستين درهمًا، قال عمر: غلامكم (سرق) (٣) متاعكم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو بن حضرمی فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر کے پاس اپنا ایک غلام لایا اور میں نے عرض کی، آپ اس کا ہاتھ کاٹ دیں، آپ نے پوچھا : اس کا قصور کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : اس نے میری بیوی کا آئینہ چوری کیا ہے جو ساٹھ دراہم سے بہتر ہے، حضرت عمر نے فرمایا : تمہارے غلام نے تمہارا ہی مال چوری کیا ہے۔
حدیث نمبر: 30474
٣٠٤٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو) (١) معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن همام عن عمرو بن شرحبيل قال: جاء معقل المزني إلى عبد اللَّه فقال: (غلامي) (٢) سرق قبائي فأقطعه؟ قال عبد اللَّه: لا، مالُك بعضه (في) (٣) بعض (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شرحبیل فرماتے ہیں کہ حضرت معقل مزنی حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس آئے اور فرمایا : میرے غلام نے میرا چوغہ چوری کیا ہے تو آپ اس کا ہاتھ کاٹ دیں۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا : نہیں، تیرے مال کا بعض حصہ میں بعض شائع ہے۔
حدیث نمبر: 30475
٣٠٤٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن حجاج عن الحكم أن عليًا قال: إذا سرق عبدي من مالي لم أقطعه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جب میرے غلام نے میرے مال سے چوری کی تھی تو میں نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔
حدیث نمبر: 30476
٣٠٤٧٦ - حدثنا أبو بكر (قال: حدثنا يزيد بن هارون) (١) قال: (حدثنا) (٢) سليم ابن حيان قال: حدثنا سعيد بن ميناء قال: كان عبد اللَّه بن الزبير يلي صدقة الزبير، وكانت في بيت لا (يدخله) (٣) أحد غيره وغير جارية له، ففقد شيئًا من المال، فقال للجارية: ما كان يدخل هذا البيت (غيري و) (٤) غيرك، فمن أخذ هذا المال؟ فأقرت الجارية، فقال لي: يا سعيد انطلق بها فاقطع يدها، فإن المال لو كان لي لم يكن عليها قطع (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مینائ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر حضرت زبیر کے صدقہ کا انتظام و انصرام سنبھالتے تھے اور وہ صدقہ کا مال اس گھر میں ہوتا تھا جس میں کوئی شخص حضرت عبداللہ بن زبیر اور ان کی باندی کے علاوہ داخل نہیں ہوسکتا تھا پس اس میں سے کچھ مال گم ہوگیا۔ تو آپ نے باندی سے کہا : اس گھر میں میرے اور تیرے علاوہ کوئی داخل نہیں ہوتا تو کس نے یہ مال لیا ہے ؟ باندی نے اقرار کرلیا۔ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا : اے سعید اس کو لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ د و اس لیے کہ اگر میرا ہوتا تو پھر اس کا ہاتھ نہ کٹتا۔