کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: شکوک و شبہات کی بنیاد پر سزائیں ختم کرنے کے بیان میں
حدیث نمبر: 30395
٣٠٣٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن منصور عن الحارث عن إبراهيم قال: قال عمر بن الخطاب: (لأنْ) (١) أعطّل الحدود بالشبهات أحب إلي من أن أقيمها (في الشبهات) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے ارشاد فرمایا : میں حدود کو شکوک و شبہات کی وجہ سے معطل کردوں یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں ان سزاؤں کو شبہات میں قائم کردوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30395
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30395، ترقيم محمد عوامة 29085)
حدیث نمبر: 30396
٣٠٣٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن إسحاق بن أبي فروة عن عمرو بن شعيب عن أبيه أن معاذًا وعبد اللَّه بن مسعود وعقبة بن عامر قالوا: إذا اشتبه عليك الحد (فادرأه) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعیب فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ ، حضرت ابن مسعود اور حضرت عقبہ بن عامر ان سب حضرات نے ارشاد فرمایا : جب تم پر حد مشتبہ ہوجائے تو اس کو زائل کردو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30396
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ إسحاق متروك.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30396، ترقيم محمد عوامة 29086)
حدیث نمبر: 30397
٣٠٣٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب أن امرأة زنت فقال عمر: أراها كانت تصلي من الليل فخشعت فركعت فسجدت، فأتاها غاو من الغواة (فتجثمها) (١) فأرسل عمر إليها فقالت كما قال عمر، فخلى سبيلها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شھاب فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے زنا کیا اس پر حضرت عمر نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ وہ رات کو نماز پڑھ رہی تھی پس وہ ڈر گئی سو اس نے رکوع کیا پھر وہ سجدہ میں چلی گئی۔ اتنے میں گمراہوں میں سے ایک گمراہ شخص آیا ہوگا اور وہ اس کے اوپر چڑھ گیا ہوگا۔ حضرت عمر نے اس عورت کی طرف قاصد بھیجا تو اس عورت نے وہی بات کہی جو حضرت عمر نے بیان کی تھی۔ آپ نے اس کا راستہ چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30397
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30397، ترقيم محمد عوامة 29087)
حدیث نمبر: 30398
٣٠٣٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن الأعمش عن إبراهيم قال: كانوا يقولون: ادرأوا الحدود عن (عباد) (١) اللَّه ما استطعتم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ صحابہ فرمایا کرتے تھے : سزاؤں کو اللہ رب العزت کے بندوں سے اپنی طاقت کے بقدر زائل کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30398
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30398، ترقيم محمد عوامة 29088)
حدیث نمبر: 30399
٣٠٣٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن برد عن الزهري قال: (ادفعوا الحدود) (١) بكل شبهة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت برد فرماتے ہیں کہ حضرت زھری نے ارشاد فرمایا : ہر شبہ کی وجہ سے سزاؤں کو دور کردو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30399
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30399، ترقيم محمد عوامة 29089)
حدیث نمبر: 30400
٣٠٤٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم عن أبي وائل عن عبد اللَّه قال: ادرأوا القتل والجلد عن المسلمين ما استطعتم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : قتل اور کوڑے کو مسلمانوں سے اپنی طاقت کے بقدر زائل کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30400
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عاصم ضعيف في أبي وائل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30400، ترقيم محمد عوامة 29090)
حدیث نمبر: 30401
٣٠٤٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن إبراهيم قال: قال (١): اطردوا (المعترفين) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : اعتراف کرنے والوں سے سزاؤں کو دور کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30401
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30401، ترقيم محمد عوامة 29091)
حدیث نمبر: 30402
٣٠٤٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن عاصم بن كليب عن أبيه قال: قال أبو موسى: أُتيت وأنا باليمن امرأة حبلى فسألتها فقالت: ما تسأل عن امرأة ⦗٤٢٥⦘ حبلى ثيب من غير بعل، أما واللَّه ما (خاللت) (١) خليلًا، ولا (خادنت) (٢) خدنا منذ (أسلمت) (٣)، ولكن بينا أنا نائمة بفناء بيتي -واللَّه- ما أيقظني إلا رجل (رفصني) (٤) وألقى في بطني مثل الشهاب، ثم نظرت إليه (مقفيًا) (٥) ما أدري من هو من خلق اللَّه، فكتبت فيها إلى عمر، فكتب عمر: (وافني) (٦) بها وبناس من قومها، قال: فوافيناه (بالموسم) (٧) فقال شبه الغضبان: لعلك قد سبقتني بشيء من أمر المرأة؟ قال: قلت: لا، وهي معي، وناس من قومها. فسألها فأخبرته كما أخبرتني، ثم سأل قومها فأثنوا خيرًا، قال: فقال عمر: شابة تهامية (نومة) (٨)، قد كان يفعل (فمارها) (٩) وكساها، وأوصى (بها قومها) (١٠) خيرًا (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کلیب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے ارشاد فرمایا : میں یمن میں تھا کہ میرے پاس ایک حاملہ عورت لائی گئی میں نے اس سے اس بارے میں سوال کیا ؟ تو اس نے کہا : کیا آپ ایسی حاملہ عورت کے متعلق پوچھ رہے ہیں جو خاوند کے علاوہ سے ثیبہ کی گئی ہے ؟ اللہ کی قسم ! جب سے میں اسلام لائی ہوں نہ میں نے کسی کو دوست بنایا اور نہ ہی کسی کو ہمنشین بنایا ہے لیکن ایک دن میں اپنے گھر کے صحن میں سوئی ہوئی تھی۔ اللہ کی قسم ! مجھے بیدار نہیں کیا گیا مگر ایک آدمی نے اس نے مجھے ہلکے سے اٹھایا اور اس نے میرے پیٹ میں ستارے جیسی چیز ڈال دی پھر میں نے اسے دور کرتے ہوئے اس کی طرف غور سے دیکھا میں نہیں جانتی کہ وہ اللہ کی مخلوق میں سے کون تھا ؟ آپ فرماتے ہیں : میں نے اس بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا : تو حضرت عمر نے جواب لکھا : اس عورت کو اور اس کی قوم کے چند لوگوں کو میرے پاس لے کر آؤ آپ فرماتے ہیں : ہم لوگ موسم حج میں ان کے پاس آئے حضرت عمر نے غصہ کی سی حالت میں فرمایا : شاید کہ تم اس عورت کے معاملہ میں مجھ پر کچھ سبقت لے گئے ہو ؟ میں نے کہا : نہیں، وہ عورت اور اس کی قوم کے چند لوگ میرے ساتھ ہیں۔ پھر آپ نے اس عورت سے سوال کیا، تو اس نے آپ کو بھی ویسے ہی بات بتلائی جیسے اس نے مجھے بتلائی تھی۔ پھر آپ نے اس کی قوم سے اس کے متعلق پوچھا : تو ان لوگوں نے اس کی تعریف بیان کی اس پر حضرت عمر نے فرمایا : تِھَامیۃ کی جوان عورت بہت سونے والی ہے کبھی کبھار ایسا ہوجاتا ہے پس آپ نے اسے خوراک دی اور اسے کپڑے پہنائے اور اس کی قوم کو اس کے ساتھ اچھے برتاؤ کی وصیت کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30402
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ كليب صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30402، ترقيم محمد عوامة 29092)
حدیث نمبر: 30403
٣٠٤٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن عبد الملك بن ميسرة عن النزال بن سبرة قال: بينما نحن بمنى مع عمر إذا امرأة ضخمة على ⦗٤٢٦⦘ حمارة تبكي، قد كاد الناس أن يقتلوها من الزحام، يقولون: زنيت، فلما انتهت إلى عمر قال: ما يبكيك؟ إن (المرأة) (١) ربما استكرهت، فقالت: كنت امرأة ثقيلة الرأس، وكان اللَّه يرزقني من صلاة الليل، فصليت ليلة ثم نمت، فواللَّه ما أيقظني إلا الرجل قد ركبني، (فنظرت) (٢) إليه مقفيًا، ما أدري (من) (٣) هو من خلق اللَّه، فقال عمر: لو قتلت هذه خشيت على الأخشبين النار، ثم كتب إلى الأمصار ألا تقتل نفس دونه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نزال بن سبرہ فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ ہم منی میں حضرت عمر کے ساتھ تھے ایک بھاری بھر کم عورت گدھے پر رو رہی تھی۔ قریب تھا کہ لوگ رش سے اس کو مار دیتے۔ وہ کہہ رہے تھے : تو نے زنا کیا ہے۔ پس جب وہ حضرت عمر کے پاس پہنچی آپ نے پوچھا : کس بات نے تجھے رلایا ؟ بیشک کبھی کبھار عورت کو بدکاری پر مجبور بھی کردیا جاتا ہے ! اس عورت نے کہا : میں بہت زیادہ سونے والی عورت ہوں اور اللہ رب العزت مجھے رات کی نماز کی توفیق عطا فرماتے تھے پس میں نے ایک رات نماز پڑھی پھر میں سو گئی اللہ کی قسم ! مجھے بیدار نہیں کیا مگر اس آدمی نے تحقیق جو مجھ پر سوار ہوچکا تھا۔ میں نے اس کو دور کرتے ہوئے غور سے دیکھا میں نہیں جانتی کہ وہ اللہ کی مخلوق میں سے کون تھا ؟ اس پر حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : اگر میں اس کو قتل کردوں تو مجھے جہنم کی سختی کا خوف ہے پھر آپ نے شہروں میں خط لکھ دیا : کہ کسی جان کو بغیر وجہ کے قتل نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30403
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30403، ترقيم محمد عوامة 29093)
حدیث نمبر: 30404
٣٠٤٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن يزيد بن (زياد البصري) (١) عن الزهري عن عروة عن عائشة قالت: ادرأوا الحدود عن (المسلمين ما) (٢) استطعتم، فإذا وجدتم للمسلم مخرجًا فخلوا سبيله، فإن الإمام (إن يخطئ) (٣) في العفو خير من أن يخطئ في العقوبة (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : سزاؤں کو مسلمانوں سے اپنی طاقت کے بقدر دور کرو پس جب تم مسلمانوں کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ پاؤ تو ان کو چھوڑ دو اس لیے کہ حاکم کا معافی میں غلطی کرنا سزا میں غلطی کرنے سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30404
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ لحال يزيد بن زياد، وروي مرفوعًا عند الترمذي (١٤٢٤)، والحاكم ٤/ ٣٨٤، والبيهقي ٨/ ٢٣٨، وقد سمى ابن عساكر يزيد بن زياد بالبصري.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30404، ترقيم محمد عوامة 29094)