حدیث نمبر: 30125
٣٠١٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن أيوب عن نافع (أن) (١) بعض أمراء الفتنة سأل ابن عمر عن أم ولد قذفت، فأمر بقاذفها أن يجلد ثمانين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ ایک فتنہ کے امیر نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسی ام ولدہ کے بارے میں سوال کیا جس پر تہمت لگائی گئی تھی ؟ تو آپ نے تہمت لگانے والے کے بارے میں حکم دیا کہ اسے اسی کوڑے مارے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 30126
٣٠١٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى (بن) (١) سعيد عن نافع عن ابن عمر قال: يجلد قاذف (٢) أم الولد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا، ام ولدہ پر تہمت لگانے والے کو کوڑے مارے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 30127
٣٠١٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال: استب (ابنُ) (١) صريحة وابنُ أم ولد (فسب) (٢) (ابن صريحة) (٣) ابن أم الولد فجلد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب نے ارشاد فرمایا : صاف اور واضح کردار کی عورت کے بیٹے اور ام ولدہ کے بیٹے نے ایک دوسرے کو گالی دی۔ پھر واضح کردار والی عورت کے بیٹے نے ام ولدہ کے بیٹے کو گالی دیا س پرا سے کوڑے مارے گئے۔
حدیث نمبر: 30128
٣٠١٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب (بن) (١) عطاء عن سعيد عن أبي يزيد (المدني) (٢) أن عمر بن عبد العزيز جلد رجلًا قذف أم ولد رجل لم (تعتق) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو یزید مدنی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ایک آدمی کو کوڑے مارے جس نے ایک آدمی کی ام ولدہ پر تہمت لگائی تھی جس کو آزاد نہیں کیا گان تھا۔
حدیث نمبر: 30129
٣٠١٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن سعيد أن عديًا كتب إلى عمر بن عبد العزيز فكتب أن أجلده الحد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید فرماتے ہیں کہ حضرت عدی نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو خط لکھا تو آپ نے جواب لکھا کہ تم اس کو حدًا کوڑے مارو۔