کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس مسلمان کا بیان جس نے ذمی پر تہمت لگائی، اس پر حد لازم ہوگی یا نہیں؟
حدیث نمبر: 30126
(٣٠١٢٦) [*] حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) بن بشير عن مغيرة عن إبراهيم أنه قال: من قذف يهوديًا أو نصرانيًا فلا حد عليه.
حدیث نمبر: 30075
٣٠٠٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن مطرف عن الشعبي أنه قال مثل ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے بھی مذکورہ ارشاد اس سند سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 30076
٣٠٠٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن أنه كان يقول ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
یونس فرماتے ہیں کہ حسن بصری بھی یہ ہی فرمایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 30077
٣٠٠٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية وابن نمير عن هشام عن أبيه قال: ليس على قاذف أهل الذمة حد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ نے ارشاد فرمایا : ذمی پر تہمت لگانے والے پر حد نہیں ہوگی۔
حدیث نمبر: 30078
٣٠٠٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (معتمر) (١) عن ليث عن طاوس ومجاهد والشعبي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس حضرت مجاہد وغیرہ ان سب حضرات نے ارشاد فرمایا : جب یہودی اور عیسائی عورت کسی مسلمان کے تحت ہوں تو ان کے درمیان لعان نہیں ہوگا اور نہ ہی ان دونوں پر تہمت لگانے والے پر حد ہوگی۔
حدیث نمبر: 30079
٣٠٠٧٩ - والحكم عن إبراهيم قالوا: إذا كانت اليهودية والنصرانية تحت مسلم فليس بينهما ملاعنة، وليس على قاذفهما حد.
حدیث نمبر: 30080
٣٠٠٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن عبد الملك بن أبي (غنية) (١) عن أبيه عن الحكم قال: إذا قذف الرجلُ الرجلَ -وله أم يهودية أو نصرانية- فلا حد عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالملک بن ابو غنیہ فرماتے ہیں کہ حضرت حکم نے ارشاد فرمایا : جب آدمی نے کسی آدمی پر تہمت لگائی اس حال میں کہ اس کی ماں یہودی یا عیسائی تھی تو اس پر حد نہیں ہوگی۔
حدیث نمبر: 30081
٣٠٠٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: إذا قذف اليهودي والنصراني عزر (قاذفه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معمر فرماتے ہیں کہ حضرت زھری نے ارشاد فرمایا : جب یہودی اور عیسائی پر تہمت لگائی جائے تو ان کے تہمت لگانے والے کو تعزیراً سزا دی جائیگی۔
حدیث نمبر: 30082
٣٠٠٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي خلدة عن عكرمة قال: لو أوتيت برجل قذف يهوديًا أو نصرانيًا وأنا والٍ لضربته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو خلدہ فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ نے ارشاد فرمایا : اگر میرے پاس ایسے آدمی کو لایا جائے جس نے کسی یہودی یا نصرانی پر تہمت لگائی ہو اور میں حاکم ہوں تو میں اسے ضرور ماروں گا۔