کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جس نے دیت پر مصالحت کرلی پھر اس نے قاتل کو قتل کردیا
٢٩٩٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن القاسم بن الفضل عن هارون عن عكرمة في رجل قتل بعد (أخذه) (١) الدية، قال: يُقتل، أما سمعت اللَّه يقول: ﴿(فَلَهُ) (٢) عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [المائدة: ٩٤].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہارون فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ سے ایسے آدمی کے بارے میں مروی ہے کہ جس نے اپنی دیت لینے کے بعد قاتل کو قتل کردیا ہو۔ آپ نے فرمایا : اس کو قتل کردیا جائے گا کیا تم نے سنا نہیں ؟ اللہ رب العزت فرماتے ہیں اس کے لیے درد ناک عذاب ہے ؟
٢٩٩٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن يونس عن الحسن (قال) (١): (تؤخذ) (٢) منه الدية ولا يقتل.
مولانا محمد اویس سرور
یونس فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ارشاد فرمایا : اس سے دیت لی جائے گی اور اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔
٢٩٩٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو داود عن (وهيب) (١) عن يونس عن الحسن في رجل قتل له قتيل فعفى عنه، ثم راح فقتله، قال الحسن: لا يقتل.
مولانا محمد اویس سرور
یونس فرماتے ہیں کہ حسن بصری سے ایک آدمی کے بارے میں مروی ہے کہ جس کے ایک مقتول کو قتل کردیا گیا تھا پس اس نے قاتل کو معاف کردیا پھر وہ قاتل آیا تو اس نے اسے قتل کردیا ۔ حسن بصری نے فرمایا : اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔