کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: چور کو قتل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 29893
٢٩٨٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد عن إبراهيم قال: إذا دخل اللص دار الرجل فقتله فلا ضرار عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : جب چور آدمی کے گھر میں داخل ہوا سو اس آدمی نے اسے قتل کردیا تو اس سے کوئی بدلہ نہیں لیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29893
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29893، ترقيم محمد عوامة 28620)
حدیث نمبر: 29894
٢٩٨٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن جابر عن عامر قال: (اقتل) (١) اللص، وأنا ضامن (ألا) (٢) تتبعك (منه تبعة) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عامر نے ارشاد فرمایا : چور کو قتل کر دے میں ضامن ہوں کوئی تیرے پیچھے نہ آئے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29894
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29894، ترقيم محمد عوامة 28621)
حدیث نمبر: 29895
٢٩٨٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن سالم بن عبد اللَّه عن ابن عمر أنه وجد سارقًا في بيته، فأصلت عليه (بالسيف) (١)، ولو تركناه لقتله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے اپنے گھر میں ایک چور کو پایا تو آپ نے اس پر تلوار سے حملہ کردیا۔ اور اگر ہم آپ کو چھوڑ دیتے تو آپ ضرور اسے قتل کردیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29895
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29895، ترقيم محمد عوامة 28622)
حدیث نمبر: 29896
٢٩٨٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب عن حميد بن هلال عن حجير بن الربيع قال: قلت لعمران بن حصين: أرأيت إن دخل عليَّ داخل يريد نفسي ومالي؟ فقال: لو دخل عليَّ داخل يريد نفسي ومالي لرأيت أن قد (حل) (١) لي قتله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجیر بن ربیع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمران بن حصین سے دریافت کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر کوئی شخص میری جان اور میرے مال کے ارادے سے مجھ پر داخل ہو تو میں کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا : اگر کوئی مجھ پر میری جان اور میرے مال کے ارادے سے آئے تو میری رائے ہے کہ میرے لیے اس کا قتل حلال ہوگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29896
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ حجير صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29896، ترقيم محمد عوامة 28623)
حدیث نمبر: 29897
٢٩٨٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن قابوس بن المخارق عن أبيه قال: أتى النبي ﷺ رجل فقال: يا رسول اللَّه الرجل يأتيني يريد مالي، قال: " (ذكره) (١) باللَّه"، قال: فإن لم يذكر، قال: "فاستعن عليه بمن حولك من المسلمين"، قال: فإن لم يكن حولي أحد من المسلمين؟ قال: "فاستعن عليه ⦗٣١٩⦘ بالسلطان"، قال: فإن نأى عني السلطان؟ قال: "فقاتل دون مالك حتى تمنع مالك (و) (٢) تكون في شهداء الآخرة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مخارق فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! جو آدمی میرے مال کے ارادے سے میرے پاس آئے تو میرے لیے کیا حکم ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم اسے اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرو اس نے عرض کی، اگر وہ نصیحت نہ پکڑے تو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو پھر تم اس کے خلاف اپنے اردگرد موجود مسلمانوں سے مدد مانگو، اس نے عرض کی اگر ان میں سے کوئی بھی نہ ہو تو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر تم بادشاہ سے اس کے خلاف مدد مانگو اس نے عرض کی اگر بادشاہ مجھ سے دور ہو تو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر تم اپنے مال کی حفاظت کرلو اور تم آخرت کے شہدا میں ہوجاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29897
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سماك وقابوس صدوقان، أخرجه أحمد (٢٢٥١٣)، والنسائي ٧/ ١١٣، والطبراني ٢٠/ ٧٤٦، وابن قانع ٣/ ١٣٣، والبيهقي ٨/ ٣٣٦، والمزي ٢٣/ ٣٣١، وأثبت الصحبة للمخارق كل من: ابن أبي حاتم في الجرح ٧/ ١٤٥، والمزي ٢٧/ ٣١٥، والذهبي في الكاشف ٢/ ٢٤٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29897، ترقيم محمد عوامة 28624)
حدیث نمبر: 29898
٢٩٨٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن هشام عن ابن سيرين قال: سمعته يقول: ما علمت أن أحدًا من المسلمين ترك قتال رجل يقطع عليه الطريق أو يطرقه (في بيته) (١) تأثما من ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین کو یوں ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ میں مسلمانوں میں سے کسی کو نہیں جانتا جس نے ایسے شخص سے قتال کو چھوڑا ہو جو اس پر ڈاکہ ڈال رہا ہو یا رات کو اس کے گھر میں گھس آیا ہو، اس کو گناہ سمجھتے ہوئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29898
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29898، ترقيم محمد عوامة 28625)
حدیث نمبر: 29899
٢٩٨٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد (عن) (١) عوف عن الحسن قال: اقتل اللص و (الحروري) (٢) والمستعرض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوف فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ارشاد فرمایا : چور کو خارجی کو اور خارجیوں میں سے جائزہ لے کر مارنے والوں کو قتل کردو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29899
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29899، ترقيم محمد عوامة 28626)
حدیث نمبر: 29900
٢٩٩٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع قال: أصلت ابن عمر على لص بالسيف، فلو تركناه لقتله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک چور پر تلوار سے حملہ کردیا پس اگر ہم آپ کو چھوڑ دیتے تو آپ ضرور اسے قتل کردیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29900
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29900، ترقيم محمد عوامة 28627)
حدیث نمبر: 29901
٢٩٩٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن (عيينة) (١) عن الزهري عن طلحة بن عبد اللَّه عن سعيد بن زيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من قتل ⦗٣٢٠⦘ دون ماله فهو شهيد" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن زید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اپنے مال کی حفاظت کے دوران قتل کردیا گیا تو ہ شہید ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29901
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٦٢٨)، والنسائي ٧/ ١١٥، وأبو داود (٤٧٧٢)، والترمذي (١٤٢١)، وعبد الرزاق (١٨٥٦٥)، والحميدي (٨٣)، وابن ماجه (٥٨٠)، وأبو يعلى (٩٤٩)، والشاشي (٢٠٤)، وابن حبان (٣١٩٤)، والبيهقي ٣/ ٦٦، والطيالسي (٢١٨)، وعبد بن حميد (١٠٦)، والضياء (١٠٩١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29901، ترقيم محمد عوامة 28628)
حدیث نمبر: 29902
٢٩٩٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو بن دينار عن عمرو بن (شعيب) (١) عن عبد اللَّه بن عمرو عن النبي ﵇ (٢) قال: "من قتل دون ماله فهو شهيد" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اپنے مال کی حفاظت کے دوران قتل کردیا گیا تو وہ شہید ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29902
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29902، ترقيم محمد عوامة 28629)
حدیث نمبر: 29903
٢٩٩٠٣ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن (جويبر) (١) عن الضحاك عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من قتل دون ماله فهو شهيد"] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اپنے مال کی حفاظت کے دوران قتل کردیا گیا تو وہ شہید ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29903
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ جويبر متروك، أخرجه عبد الرزاق (١٨٥٧٠)، والحارث (٦٣٦/ بغية)، وأحمد ابن منيع كما في المطالب العالية (١٩١٤)، والطبراني (١٢٦٤١)، وابن عدي ٢/ ١٢٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29903، ترقيم محمد عوامة 28630)
حدیث نمبر: 29904
٢٩٩٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا مروان عن يزيد بن سنان عن ميمون بن مهران عن ابن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من قتل دون ⦗٣٢١⦘ ماله فهو شهيد" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اپنے مال کی حفاظت کے دوران قتل کردیا گیا تو وہ شہید ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29904
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد بن سنان، أخرجه ابن ماجة (٢٥٨١)، والطبراني في الأوسط (١٤٠٠)، وابن عدي (٤/ ٣٤٧) و (٦/ ٢٤)، والخطيب (٦/ ١٤٠)، وأبو يعلى في المعجم (١١٣)، وأبو الشيخ في طبقات أصبهان (٢/ ٣٠٤) (١٨٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29904، ترقيم محمد عوامة 28631)