کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جو امان طلب کر کے آیا اور کسی مسلمان نے اسے قتل کردیا
حدیث نمبر: 29879
٢٩٨٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مبارك عن (معمر) (١) (عن زياد بن مسلم) (٢) أن رجل من أهل الهند قدم بأمان (عدن) (٣) فقتله رجل من المسلمين بأخيه، فكتب في ذلك إلى عمر بن عبد العزيز فكتب: أن لا تقتله، وخذ منه الدية فابعث بها إلى ورثته، وأمر به فسجن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معمر فرماتے ہیں کہ حضرت زیاد بن مسلم نے ارشاد فرمایا : ہندوستان کا ایک آدمی امن لیکر عدن آیا تو مسلمانوں میں سے ایک شخص نے اپنے بھائی کی وجہ سے اسے قتل کردیا سو اس بارے میں حضرت عمر بن عبدالعزیر کو خط لکھا گیا تو آپ نے جواب لکھا : کہ اس کو قتل مت کرو اس سے دیت لے کر وہ دیت اس مقتول کے ورثاء کو بھیج دو اور آپ کے حکم سے اسے قید کردیا گیا۔
حدیث نمبر: 29880
٢٩٨٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن (يوسف بن) (١) يعقوب أن رجلا من المشركين قتل رجلا من المسلمين ثم دخل بأمان، فقتله أخوه، فقضى عليه عمر بن عبد العزيز بالدية وجعله عليه في ماله، وحبسه في السجن، وبعث بديته إلى ورثته من أهل الحرب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یوسف بن یعقوب فرماتے ہیں کہ مشرکین میں سے ایک شخص نے مسلمانوں کے ایک آدمی کو قتل کردیا پھر وہ شخص امان لے کر داخل ہوا تو اس مسلمان کے بھائی نے اس کو قتل کردیا سو اس کے خلاف حضرت عمر بن عبدالعزیر نے دیت کی ادائیگی کا فیصلہ فرمایا : اور آپ نے اس دیت کا بوجھ اس کے مال میں ڈالا اور اسے جیل میں قید کردیا اور وہ دیت مقتول کے اہل حرب میں موجود ورثاء کو بھیج دی۔
حدیث نمبر: 29881
٢٩٨٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الثقفي عن حبيب المعلم عن الحسن أن رجلًا من المشركين حج، فلما رجع صادرًا لقيه رجل من المسلمين فقتله، (فأمره) (١) النبي ﷺ أن تؤدى ديته إلى أهله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن بصری فرماتے ہیں کہ ایک مشرک آدمی نے حج کیا پس جب وہ حج کر کے واپس لوٹا تو اس سے ایک مسلمان آدمی ملا جس نے اسے قتل کردیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو حکم دیا کہ وہ اس کے ورثاء کو اس کی دیت ادا کرے۔
حدیث نمبر: 29882
٢٩٨٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو داود عن أبي حرة عن الحسن في قوم ⦗٣١٥⦘ لقوا (العدو) (١) فاستأجلوهم خمسة أيام فقتل بينهم قتيل، قال: على المسلمين (ديته) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حرہ فرماتے ہیں کہ حسن بصری سے ایسے افراد کے بارے میں مروی ہے جو دشمنوں سے ملے پس انہوں نے ان سے پانچ دن کی مہلت مانگی سو ان کے درمیان ایک شخص کو قتل کردیا گیا۔ آپ نے فرمایا : مسلمانوں پر اس کی دیت لازم ہوگی۔