حدیث نمبر: 29864
٢٩٨٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن مغيرة عن إبراهيم (أن) (١) (جِلْوازا قنَّع) (٢) رجلا بالسوط، فأقاده منه شريح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے فرمایا : ایک سپاہی نے کسی آدمی کا سر ڈھانکا اور سر پر کوڑا مارا تو حضرت شریح نے اس سے قصاص لیا۔
حدیث نمبر: 29865
٢٩٨٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن أشعث عن فضيل عن عبد اللَّه بن معقل قال: كنت جالسًا عند علي فجاءه رجل فساره فقال علي: يا قنبر، فقال الناس: ⦗٣١١⦘ يا قنبر، قال: أخرج هذا فاجلده، ثم جاء المجلود فقال: إنه قد زاد علي ثلاثة أسواط، فقال (له) (١) علي: ما (تقول) (٢)؟ قال: صدق يا أمير المؤمنين! قال: خذ السوط فاجلده ثلاثة أسواط، ثم قال: يا قنبر! إذا جلدت فلا تَعدَّ الحدود (٣).
حدیث نمبر: 29866
٢٩٨٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن الشيباني عن الشعبي والحكم وحماد قالوا: ما أصيب به - (سوط) (١) أو عصى أو حجر- فكان دون النفس فهو عمد، ديته القود.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شیبانی فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی ، حضرت حکم اور حضرت حماد نے یوں ارشاد فرمایا : جس کو کوڑا یا لاٹھی یا پتھر مارا گیا اور یہ مارنا جان کے قتل کرنے سے کم تھا تو یہ عمد شمار ہوگا اس کی دیت قصاص ہوگا۔