کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اللہ رب العزت کے قول: وان کان من قوم بینکم وبینھم میثاق کی تفسیر کا بیان
حدیث نمبر: 29848
٢٩٨٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن سفيان عن سماك عن عكرمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ اور ابراہیم نے آیت : اگر مقتول ہو ایسی قوم میں سے کہ تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہو اس کی تفسیر یوں بیان فرمائی : وہ آدمی جو دارالحرب میں اسلام لایا پھر ایک آدمی نے اسے قتل کردیا : تو اس پر دیت نہیں ہوگی اور اس پر کفارہ لازم ہوگا۔
حدیث نمبر: 29849
٢٩٨٤٩ - (وعن) (١) مغيرة عن إبراهيم ﴿وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ﴾ [النساء: ٩٢]، قالا: الرجل يسلم في دار الحرب، فيقتله الرجل: ليس عليه الدية وعليه الكفارة.
حدیث نمبر: 29850
٢٩٨٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم في قوله (تعالى) (١): ﴿وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ﴾ وإذا قُتل المسلم فهذا له ولورثته المسلمين، ﴿فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ﴾ الرجل (المسلم) (٢) يقتل وقومه مشركون، ليس بينهم وبين رسول اللَّه ﷺ عهد (فعليه تحرير رقبة ⦗٣٠٧⦘ مؤمنة) وأن قُتل (مسلمُ) (٣) من قوم مشركين بينهم وبين رسول اللَّه ﷺ عهد [فعليه تحرير رقبة مؤمنة، ويؤدي ديته إلى قومه الذين بينهم وبين رسول اللَّه ﷺ عهد] (٤). فيكون ميراثه للمسلمين، ويكون عقله (لقومه المشركين) (٥) الذين بينهم وبين رسول اللَّه ﷺ عهد، فيرث المسلمون ميراثه، ويكون عقله (لقومه) (٦)؛ لأنهم يعقلون عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت کے قول : اور جس نے قتل کردیا کسی مومن کو غلطی سے تو آزاد کرے ایک مومن غلام اور مقتول بہا اد کیا جائے مقتول کے وارثوں کو اس آیت کے بارے میں ابراہیم نے فرمایا : جب مسلمان کو قتل کردیا جائے تو یہ حکم اس کے لیے اور اس کے مسلمان ورثاء کے لیے ہے اور آیت اور پھر مقتول اگر ایسی قوم میں سے ہو جو قوم تمہاری دشمن اور وہ مومن ہو۔ اس آیت کے بارے میں آپ نے فرمایا : وہ مسلمان آدمی جو قتل کردے اس حال میں کہ اس کی قوم مشرک ہو ان کے اور رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہو تو اس پر ایک مسلمان غلام آزاد کرنا لازم ہے اور اگر اس نے کسی مسلمان کو قتل کردیا جس کا تعلق مشرکوں کی قوم سے تھا اور اس قوم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان معاہدہ تھا تو اس پر ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا ضروری ہے اور اس کی دیت ادا کی جائے گی اس قوم کو جس کے درمیان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان معاہدہ تھا اور اس کی وراثت مسلمانوں کے لیے ہوگی۔ اور اس کی دیت اس مشرک قوم کے لیے ہوگی جس کے درمیان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان معاہدہ تھا۔ پس مسلمان اس کی وراثت کے وارث ہوں گے اور اس کی دیت اس کی قوم کے لیے ہوگی اس لیے کہ وہ ہی اس کی طرف سے دیت ادا کریں گے۔
حدیث نمبر: 29851
٢٩٨٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن عيسى بن (١) مغيرة عن الشعبي في قوله: ﴿وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ﴾ قال: من أهل العهد وليس بمؤمن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیسیٰ بن مغیرہ فرماتے ہیں کہ امام شعبی نے اللہ رب العزت کے قول : اور اگر مقتول ایسی قوم میں سے ہو کہ تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہو۔ اس آیت کے بارے میں آپ نے ارشاد فرمایا : وہ معاہدہ کنندگان میں سے ہو اور مسلمان نہ ہو۔
حدیث نمبر: 29852
٢٩٨٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (معاوية) (١) بن هشام قال: حدثنا عمار ابن (رزيق) (٢) عن عطاء بن السائب عن أبي يحيى عن ابن عباس ﴿فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ﴾ قال: كان الرجل يأتي النبي ﵇ (٣) فيسلم، ثم يرجع إلى قومه فيكون فيهم وهم مشركون، فيصيبه المسلمون خطأ في سرية أو غزاة، فيعتق الذي يصيبه رقبة ﴿وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ﴾ قال: هو الرجل يكون معاهدا -ويكون قومه أهل عهد- فيسلم إليهم الدية، ويعتق الذي أصابه رقبة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو یحییٰ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت : { فَإِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَکُمْ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیرُ رَقَبَۃٍ مُؤْمِنَۃٍ } کے بارے میں فرمایا : ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا کرتا تھا، اس نے اسلام قبول کرلیا وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ گیا۔ پس وہ اپنی قوم میں تھا اور اس کی قوم مشرک تھی کہ مسلمانوں نے کسی سریہ یا غزوہ میں غلطی سے اس کو قتل کردیا تو اس کو مارنے والے نے ایک غلام آزاد کردیا اور آیت : { وَإِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِیثَاقٌ} کے بارے میں آپٖٖ نے فرمایا : وہ آدمی حلیف تھا اور اس کی قو م سے معاہدہ تھا ان کو دیت ادا کی گئی اور اس کو مارنے والے نے ایک غلام آزاد کیا۔