کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: اس حلیف کا بیان جس کو قتل کردیا جائے
❮
❯
٢٩٧٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص قال: سألت عمرًا: ما كان الحسن يقول في المعاهد يقتل؟ قال: إن كانوا يتعاقلون فعلى العواقل، وإن كانوا لا يتعاقلون فدين عليه في ماله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حفص فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر سے دریافت کیا : حسن بصری اس حلیف کے بارے میں کیا فرماتے تھے جس کو قتل کردیا گیا ہو ؟ آپ نے فرمایا : اگر اس کے خاندان والے دیت ادا کرتے ہوں تو خاندان پر لازم ہوگی اور اگر وہ باہم ملکر دیت ادا نہیں کرتے تو یہ اس پر اس کے مال میں قرض ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29751
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29751، ترقيم محمد عوامة 28492)
٢٩٧٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن الشعبي في المعاهد يقتل قال: ديته للمسلمين، وعقله عليهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ امام شعبی نے اس حلیف کے بارے میں جس کو قتل کردیا جائے یوں ارشاد فرمایا : اس کی دیت مسلمانوں کے لیے ہوگی اور تاوان ان پر لازم ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29752
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29752، ترقيم محمد عوامة 28493)
٢٩٧٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر عن سعيد عن قتادة في رجل من أهل الذمة فقا عين رجل مسلم، قال: ديته على أهل طسوجه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید فرماتے ہیں کہ حضرت قتادہ نے اس ذمی شخص کے با رے میں جس نے مسلمان آدمی کی آنکھ پھوڑ دی تھی یوں ارشاد فرمایا، اس کی دیت اس کے علاقہ والوں پر لازم ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29753
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29753، ترقيم محمد عوامة 28494)