کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: آدمی نے کسی آدمی کو عمداً قتل کردیا پس اس کو قید کرلیا جائے گا تا کہ اس سے اس کا قصاص لیاجائے
حدیث نمبر: 29589
٢٩٥٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن يزيد عن أبي العلاء عن أبي هاشم (١) عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حسن بصری نے ارشاد فرمایا : ایسے آدمی کے بارے میں کہ جس کو عمداً قتل کردیا گیا تھا پس قاتل کو قید کرلیا گیا تا کہ مقتول کے بدلہ اسے قتل کردیا جائے۔ پس ایک آدمی آیا اس نے اس قاتل کو غلطی سے قتل کردیا کہ اس کی دیت قیدی کے گھر والوں کے لیے ہوگی اور حضرت عطاء نے فرمایا : پہلے مقتول کے گھر والوں کو اس کی دیت ملے گی۔
حدیث نمبر: 29590
٢٩٥٩٠ - (و) (١) عن قتادة عن الحسن (قالا) (٢): في رجل قتل عمدا (فحبس) (٣) القاتل ليقاد (٤) بالمقتول، فجاء رجل فقتل القاتل خطأ، (قالا) (٥): ديته لأهل (المحبوس) (٦).
حدیث نمبر: 29591
٢٩٥٩١ - وقال عطاء: لأهل المقتول الأول.
حدیث نمبر: 29592
٢٩٥٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن قتادة عن [الحسن قال: الدية لأهل المقتول.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ارشاد فرمایا : دیت مقتول کے گھر والوں کے لیے ہے۔
حدیث نمبر: 29593
٢٩٥٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن] (١) حماد مثل قول الحسن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد سے بھی حسن بصری جیسا قول منقول ہے۔