حدیث نمبر: 29584
٢٩٥٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: إذا اجتمع رجل وغلام على قتل رجل قتل الرجل، وعلى عاقلة الغلام الدية كاملة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معمر فرماتے ہیں کہ حضرت زہری نے ارشاد فرمایا : جب کوئی آدمی اور لڑکا کسی آدمی کے قتل میں شریک ہوجائیں تو اس آدمی کو قتل کیا جائے گا اور لڑکے کے خاندان والوں پر کامل دیت لازم ہوگی۔
حدیث نمبر: 29585
٢٩٥٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث عن جرير بن حازم قال: سئل حماد عن رجل وصبي قتلا رجلًا عمدًا قال: أما الرجل (يقتل) (١)، وأما الصبي فعلى (أوليائه) (٢) (حصته) (٣) من الدية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر بن حازم فرماتے ہیں کہ حضرت حماد سے ایسے آدمی اور بچہ کے متعلق دریافت کیا گیا جس نے کسی آدمی کو جان بوجھ کر قتل کردیا ہو تو اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا : آدمی کو قتل کیا جائے گا اور بچہ کے اولیاء پر اس کے حصہ کی دیت لازم ہوگی۔
حدیث نمبر: 29586
٢٩٥٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن (سواء) (١) عن سعيد عن حماد عن إبراهيم قال: إذا أعانه من لا يقاد به فإنما هي دية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : جب قتل میں ایسے شخص نے مدد کی جس سے قصاص نہیں لیا جاسکتا تو اس صورت میں دیت ہوگی۔
حدیث نمبر: 29587
٢٩٥٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن عمرو عن الحسن قال: إذا اجتمع صبي وعبد على قتل فهي دية، (فإذا) (١) اجتمعا فضرب هذا بسيف وهذا بعصى فهو دية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ارشاد فرمایا : جب بچہ اور غلام کسی قتل میں شریک ہوگئے تو دیت ہوگی اور جب دونوں جمع ہوئے بایں طور کہ اس نے تلوار سے مارا اور اس نے لاٹھی سے تو بھی دیت ہوگی۔
حدیث نمبر: 29588
٢٩٥٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد قال: حدثنا هشام عن الحسن في القوم يقتلون عمدًا وفيهم الصبي والمعتوه، قال: هي دية خطأ على العاقلة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ایسی قوم کے بارے میں میں جنہوں نے جان بوجھ کر قتل کردیا تھا بایں طور پر کہ ان میں بچہ اور مجنون بھی تھے۔ آپ نے فرمایا : اس صورت میں خاندان والوں پر قتل خطا کی دیت ہوگی۔