کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس آدمی کا بیان جو خود کو زخم پہنچا لے
حدیث نمبر: 29518
٢٩٥١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن ليث عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عبد اللَّه بن عمرو قال: كان رجل يسوق حمارًا وكان راكبًا عليه، فضربه بعصى معه فطارت منها شظية فاصابت عينه (ففقأتها) (١)، (فرفع) (٢) ذلك إلى عمر بن الخطاب فقال: هي (يد) (٣) من أيدي المسلمين، لم يصبها اعتداء على أحد، فجعل دية عينه على عاقلته (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ ایک آدمی گدھے کو ہنکا رہا تھا اس حال میں کہ وہ اس پر سوار تھا پس اس نے اپنے پاس موجود لاٹھی اس کو ماری تو اس کا ریزہ اڑتا ہوا اس کی آنکھ میں لگا اور اس کی آنکھ پھوڑ دی۔ پھر یہ معاملہ حضرت عمر بن خطاب کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا : یہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ ہے کسی نے اس پر کوئی زیادتی نہیں کی اور آپ نے اس کی آنکھ کی دیت اس کے خاندان والوں پر ڈالی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29518
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ليث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29518، ترقيم محمد عوامة 28277)
حدیث نمبر: 29519
٢٩٥١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: الرجل يصيب نفسه بالجرح خطأ، عليه بينة؟ قال: (تعقله) (١) (عاقلته) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا اس آدمی کے متعلق جو خود کو زخم پہنچالے کیا اس پر شہادت لازم ہوگی ؟ آپ نے فرمایا : اس کے خاندان والے دیت ادا کریں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29519
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29519، ترقيم محمد عوامة 28278)