کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ماں کے پیٹ میں موجود بچہ کا بیان جو زندہ ساقط ہو پھر وہ مر گیا یا اس نے حرکت کی تھی یا وہ کانا تھا
حدیث نمبر: 29328
٢٩٣٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد عن حجاج عن مكحول عن زيد في السقط يقع فيتحرك، قال: كملت ديته؟ استهل أو لم يستهل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ حضرت زید نے اس نا تمام بچہ کے بارے میں جو ساقط ہوگیا پھر اس نے حرکت بھی کی۔ آپ نے یوں ارشاد فرمایا : اس کی دیت مکمل ہوگی وہ چیخا ہو یا نہ چیخا ہو۔
حدیث نمبر: 29329
٢٩٣٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن هشام بن عروة عن أبيه قال: في الجنين إذا سقط حيًا ففيه الدية، وإن سقط ميتًا ففيه غرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہں ا کہ حضرت عروہ نے ارشاد فرمایا : ماں کے پیٹ میں موجود بچہ جب زندہ ساقط ہوجائے تو اس میں دیت لازم ہوگی اور اگر مردار ساقط ہوا تو اس میں غرہ یعنی ایک غلام یا باندی لازم ہوگی۔
حدیث نمبر: 29330
٢٩٣٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن سالم عن الشعبي قال: إذا ضرب الرجل بطن الحامل فأسقطت ميتًا ففيه غرة -عبد أو أمة- في ماله، وإن كان حيًا فالدية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سالم فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : جب آدمی نے حاملہ عورت کے پیٹ پر ضرب لگائی پھر اس نے مردہ بچہ ساقط کردیا تو اس میں غرہ لازم ہوگا یعنی اس آدمی کے مال میں ایک غلام یا باندی لازم ہوگی اور اگر وہ بچہ زندہ ساقط ہوا تو دیت لازم ہوگی۔
حدیث نمبر: 29331
٢٩٣٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معن بن عيسى عن ابن أبي ذئب عن الزهري قال: إذا استهل الجنين ثم مات ففيه الدية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ذئب فرماتے ہیں کہ امام زہری نے ارشاد فرمایا : جب ماں کے پیٹ سے ساقط ہونے والا بچہ چلایا پھر وہ مرگیا تو اس میں دیت لازم ہوگی۔
حدیث نمبر: 29332
٢٩٣٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: ولدت امرأة ولدًا فشهد نسوة أنه اختلج وولد حيًا، ولم يشهدن على الاستهلال (قال) (١) شريح: الحي يرث الميت، ثم أبطل ميراثه؛ لأنه لم يشهدن على (استهلاله) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نے فرمایا : کسی عورت نے بچہ جنا پس عورتوں نے گوا ہی دی کہ بیشک وہ کانا تھا اور زندہ پیدا ہوا تھا اور انہوں نے اس بچہ کے چلانے پر گواہی نہیں دی اس پر حضرت شریح نے فرمایا : وہ زندہ شمار ہوگا میت کا وارث بنے گا پھر آپ نے اس کی وراثت کو باطل قرار دے دیا اس لیے کہ ان عورتوں نے اس کے رونے اور چلانے پر گواہی نہیں دی۔