کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو شخص یوں کہے! مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا
حدیث نمبر: 29267
٢٩٢٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن (مطرف) (١) عن الشعبي (عن أبي جحيفة) (٢) قال: قلنا لعلي: هل عندكم من رسول اللَّه ﷺ شيء سوى القرآن، ⦗١٦٧⦘ فقال: لا، والذي فلق الحبة وبرأ النسمة إلا أن يعطي اللَّه رجلًا فهما في كتاب اللَّه وما في هذه الصحيفة، قال: قلت: وما في هذه الصحيفة؟ قال: العقل وفكاك الأسير ولا يقتل مسلم بكافر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جحیفہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگوں کے پاس قرآن مجید کے سوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث وغیرہ موجود ہے ؟ اس پر آپ نے فرمایا : نہیں ! قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو وجود بخشا اور ہر جاندار کو پیدا کیا مگر جو کچھ اللہ نے کسی آدمی کو قرآن مجید میں فہم عطا کی ہے اور جو کچھ اس صحیفہ میں ہے راوی کہتے ہیں میں نے عرض کیا : اس صحیفہ میں کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : دیت کے احکام قیدی کو چھڑانا اور یہ کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 29268
٢٩٢٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي (زائدة) (١) عن محمد بن إسحاق عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن النبي ﷺ قال: "لا يقتل مؤمن بكافر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مومن کو کافر کے بدلہ قتل نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 29269
٢٩٢٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن معقل عن عطاء قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يقتل مسلم بكافر، ولا ذو عهد في عهده" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کسی مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی عہد والے کو اسکے معاہدے کے دوران۔
حدیث نمبر: 29270
٢٩٢٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا بن مسهر عن بن أبي (عروبة) (١) عن قتادة عن أبي المليح أن رجلًا من قومه رمى رجلًا يهوديًّا بسهم فقتله، فرفع إلى عمر بن الخطاب فأغرمه أربعة آلاف ولم يُقدْ منه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الملیح نے ارشاد فرمایا : کہ میری قوم میں سے ایک شخص نے ایک یہودی آدمی کو تیر مار کر قتل کردیا۔ پس یہ معاملہ حضرت عمر بن خطاب کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے اس شخص پر چار ہزار درہم کا تاوان ڈالا اور اس کو قصاصاًقتل نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 29271
٢٩٢٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن قال: سئل (عمن) (١) يقتل يهوديًّا أو نصرانيًا قال: لا يقتل (مؤمن) (٢) بكافر وإن قتله عمدًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حسن بصری سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے کسی یہودی یا عیسائی کو قتل کردیا ہو ؟ آپ نے فرمایا : کسی مومن کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اگرچہ مومن نے اسے عمداً قتل کیا ہو۔
حدیث نمبر: 29272
٢٩٢٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا بن نمير عن عبد الملك عن عطاء قال: لا يقتل الرجل المسلم باليهودي ولا بالنصراني، ولكن يغرم الدية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالملک فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء نے ارشاد فرمایا : مسلمان آدمی کو یہودی اور عیسائی کے بدلہ قصاصاً قتل نہیں کیا جائے گا لیکن اس کو دیت کی ادائیگی کا ذمہ دار بنایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 29273
٢٩٢٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر قال: قال علي: من السنة أن لا يقتل (مؤمن) (١) (بكافر) (٢)، ولا حر بعبد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا ! سنت میں ہے کہ کسی مومن کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی آزاد کو غلام کے بدلے میں۔