کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جان بوجھ کر نقصان پہنچانے، صلح کرنے اور جرم تسلیم کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 29219
٢٩٢١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن مطرف عن الشعبي قال: لا تعقل العاقلة (صلحًا) (١) (ولا عمدًا ولا عبدًا) (٢) ولا اعترافًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : خاندان والے دیت ادا نہیں کریں گے صلح کی صورت میں نہ قتل عمد کی صورت میں اور نہ ہی غلام کی صورت میں۔
حدیث نمبر: 29220
٢٩٢٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن عبيدة عن إبراهيم قال: لا تعقل العاقلة صلحًا، ولا عمدًا، ولا اعترافًا، ولا عبدًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : خاندان والے دیت ادا نہیں کریں گے صلح کی صورت میں نہ قتل عمد کی صورت میں، نہ اعتراف کرنے کی صورت میں اور نہ ہی غلام ہونے کی صورت میں۔
حدیث نمبر: 29221
٢٩٢٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن أشعث، عن الحسن والشعبي قالا: الخطأ على العاقلة، والعمد والصلح على الذي أصابه في ماله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حسن بصری اور حضرت شعبی ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا : خطا کی صورت میں دیت خاندان پر ہوگی اور عمد اور صلح کی صورت میں دیت نقصان پہنچانے والے کے مال میں لازم ہوگی۔
حدیث نمبر: 29222
٢٩٢٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن هشام بن عروة عن أبيه أنه كان يقول: لا (تعقل) (١) العاقلة في العمد إلا أن (تشاء) (٢)، وإنما تعقل ⦗١٥٧⦘ (العشيرة) (٣) الخطأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عروہ فرمایا کرتے تھے قتل عمد کی صورت میں خاندان والے دیت ادا نہیں کریں گے مگر اپنی چاہت سے اس لیے کہ قبیلہ غلطی کی صور ت میں دیت ادا کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 29223
٢٩٢٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك (عن جابر عن عامر) (١) قال: اصطلح المسلمون على أن لا تعقل العاقلة صلحًا ولا عمدًا ولا اعترافًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عامر نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں کی اصطلاح تھی کہ خاندان والے دیت ادا نہیں کریں گے صلح کی صورت میں نہ ہی عمد کی صورت میں اور نہ ہی اعتراف کی صورت میں۔
حدیث نمبر: 29224
٢٩٢٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حماد بن خالد عن مالك بن أنس عن الزهري قال: مضت السنة أن العاقلة لا تعقل دية عمد إلا عن طيب نفس (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ امام زہری نے ارشاد فرمایا : سنت گزرچکی ہے اس میں کہ خاندان والے کسی عمد کی دیت ادا نہیں کریں گے مگر اپنی خوشنودی سے۔