کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: قتل شبہ عمد کا بیان: اس کی دیت کس پر لازم ہوگی؟
حدیث نمبر: 29206
٢٩٢٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: ما كان من قتل بغير سلاح فهو شبه العمد، وفيه الدية على العاقلة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : جو قتل بغیر ہتھیار کے کیا گیا ہو وہ شبہ عمد ہے اور اس میں دیت خاندان والوں پر لازم ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29206
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29206، ترقيم محمد عوامة 27986)
حدیث نمبر: 29207
٢٩٢٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة قال: سألت حمادًا عن قتل الخطأ شبه العمد، فقال: في مال القاتل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد سے قتل خطاء کے متعلق سوال کیا جو بغیر ہتھیار کے کیا ہو ؟ آپ نے فرمایا : اس کی دیت قاتل کے مال میں لازم ہوگی اور حضرت حکم سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا : اس کی دیت خاندان والوں پر لازم ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29207
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29207، ترقيم محمد عوامة 27987)
حدیث نمبر: 29208
٢٩٢٠٨ - وقال الحكم: هو على العاقلة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29208
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29208، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 29209
٢٩٢٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب بن عطاء عن إسماعيل عن الحارث وابن شبرمة (قالا) (١): هو عليه في ماله.
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل فرماتے ہیں کہ حضرت حارث اور ابن شبرمہ ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا : قتل شبہ عمد کی د یت قاتل کے مال میں لازم ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29209
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29209، ترقيم محمد عوامة 27988)
حدیث نمبر: 29210
٢٩٢١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب عن سعيد عن قتادة مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید نے مذکورہ ارشاد حضرت قتادہ سے بھی نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29210
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29210، ترقيم محمد عوامة 27989)
حدیث نمبر: 29211
٢٩٢١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن الشيباني عن الشعبي والحكم وحماد (قالوا) (١): ما (أصيب) (٢) به من سوط أو حجر أو عصى فأتى على النفس فهو شبه العمد، وديه الدية مغلظة على العاقلة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شیبانی فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی حضرت حکم اور حضرت حماد ان سب حضرات نے ارشاد فرمایا جس کسی کو کوڑے یا پتھر یا لکڑی سے تکلیف پہنچائی گئی اور وہ مرگیا تو یہ قتل شبہ عمد ہوگا اور اس میں دیت مغلظہ ہوگی خاندان والوں پر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29211
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29211، ترقيم محمد عوامة 27990)
حدیث نمبر: 29212
٢٩٢١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن قتادة عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "قتيل السوط والعصا شبه العمد، (فيه) (١) مائة من الإبل، أربعون منها في بطونها أولادها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن بصری فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کوڑے اور لاٹھی سے قتل کیا گیا مقتول شبہ عمد شمار ہوگا اس میں سو اونٹ دیت کے طور پر لازم ہوں گے جن میں چالیس کے پیٹ میں بچے ہوں یعنی حاملہ ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29212
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل منقطع حكمًا؛ الحسن تابعي، حجاج مدلس.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29212، ترقيم محمد عوامة 27991)