حدیث نمبر: 29159
٢٩١٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن أبي سلمة وسعيد بن المسيب عن أبي هريرة يبلغ به النبي ﷺ (١) قال: "العجماء جرحها جبار، (والبئر جبار) (٢)، والمعدن (جبار) (٣)، وفي الركاز الخمس" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جانور کے نیچے دب کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے اور کان میں دب کر مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور خزانے میں خمس لازم ہوگا۔
حدیث نمبر: 29160
٢٩١٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا حماد بن سلمة عن محمد ابن زياد عن أبي هريرة عن النبي ﷺ (١) مثله، إلا أنه لم يذكر جرحها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی مروی ہے مگر اس سند میں جرحھا کے الفاظ نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 29161
٢٩١٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) ابن عون عن ابن سيرين عن أبي هريرة قال: البهيمة عقلها جبار، والمعدن عقله جبار، والبئر عقلها جبار، وفي الركاز الخمس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے ارشاد فرمایا : جانور کے نیچے دب کر مرنے والے کی دیت رائیگاں ہے اور کان میں دب کر مرنے والے کی دیت رائیگاں ہے اور کنویں میں گر کر مرنے والے کی دیت رائیگاں ہے اور خزاے میں خمس لازم ہوگا۔
حدیث نمبر: 29162
٢٩١٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا مغيرة بن أبي الحر أن بعيرًا افترس رجلًا فقتله فجاء رجل فقتل البعير، فأبطل شريح دية الرجل وضمن الرجل ثمن البعير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن ابو الحر نے ارشاد فرمایا : ایک اونٹ نے کسی آدمی پر حملہ کیا اور اسے ماردیا اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے اونٹ کو مار دیا تو حضرت شریح نے آدمی کی دیت کو لغو قرار دیا اور اس آدمی کو اونٹ کی قیمت کا ضامن بنایا۔
حدیث نمبر: 29163
٢٩١٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن مغيرة عن ⦗١٤٧⦘ إبراهيم إن بعيرا افترس رجلًا فقتله فجاء رجل فقتل البعير، فأبطل شريح دية الرجل وضمن الرجل قيمة البعير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : ایک اونٹ نے کسی آدمی پر حملہ کیا اور اسے مار دیا اتنے میں کوئی آدمی آیا اور ا س نے اونٹ کو مار دیا تو حضرت شریح نے آدمی کی دیت کو لغو قرار دیا اور اس آدمی کو اونٹ کی قیمت کا ضامن بنایا۔
حدیث نمبر: 29164
٢٩١٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: يغرم قاتل البهيمة ولا يغرم أهلها ما قتلت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معمر فرماتے ہیں کہ حضرت زہری نے ارشاد فرمایا : جانور کے مارنے والے کو ضامن بنایا جائے گا اور جانور کے مالک کو ضامن نہیں بنایا جائے گا جانور کے کسی کو ہلاک کردینے کی وجہ سے۔
حدیث نمبر: 29165
٢٩١٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن زمعة عن بن طاوس عن أبيه قال: اقتلوا الفحل إذا عدا عليكم، ولا غرم عليكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن طاؤس فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت طاؤس نے ارشاد فرمایا : جب سانڈ تم پر حملہ کردے تو تم اسے قتل کردو اور تم پر کوئی ضمان نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 29166
٢٩١٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن (ميسر) (١) عن ابن جريج عن عبد الكريم أن فحلًا عدا على رجل فقتله، فرفع إلى أبي بكر فأغرمه وقال: بهيمة لا تعقل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عبدالکریم نے ارشاد فرمایا : ایک سانڈ نے کسی آدمی پر حملہ کردیا تو اس آدمی نے اسے مار دیا پھر یہ معاملہ حضرت ابوبکر کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے اس آدمی کو ضمان ادا کرنے کا ذمہ دار بنایا اور فرمایا جانور تو دیت ادا نہیں کرے گا۔
حدیث نمبر: 29167
٢٩١٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الأسود بن قيس عن الحي أن غلامًا من قومه دخل على نجيبة لزيد بن صوحان في داره فخبطته فقتلته، فجاء أبوه بالسيف فعقرها فرفع ذلك إلى عمر، فأهدر دم الغلام وضمن أباه ثمن النجيبة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود بن قیس فرماتے ہیں کہ حضرت حی نے فرمایا کہ میری قوم کا ایک لڑکا زید بن صوحان کے گھر میں اس کی طاقتور اونٹنی کے پاس گیا وہ اونٹنی بد حواس ہوگئی اور اس نے اس لڑکے کو مار دیا اتنے میں اس لڑکے کا والد آیا اور اس نے اونٹنی کو ذبح کردیا یہ معاملہ حضرت عمر کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے بچہ کے خون کو رائیگاں قرار دیا اور اس کے والد کو اونٹنی کی قیمت کا ضامن بنایا۔
حدیث نمبر: 29168
٢٩١٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاذ بن معاذ عن أشعث عن الحسن في الرجل يلقي البهيمة فيخافها على نفسه، قال: يقتلها وثمنها عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے اس شخص کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ جو کسی جانور کے پاس آیا اور پھر اس کو اپنی جان کا خوف ہوا اور اس نے اس کو قتل کردیا تو ا س کی قیمت اس پر لازم ہوگی۔
حدیث نمبر: 29169
٢٩١٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير ويعلى بن عبيد عن عبد الملك عن عطاء في رجل عدا عليه فحل فضربه بالسيف أيضمن؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالملک فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء سے سوال کیا گیا ایسے آدمی کے بارے میں جس پر ایک سانڈ نے حملہ کردیا پھر اس نے تلوار سے اس کو مار دیا کیا یہ شخص ضامن ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں۔ اور ابن نمیر نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں وہ شخض ضامن ہوگا۔
حدیث نمبر: 29170
٢٩١٧٠ - إلا أن ابن نمير قال: (١) يضمن.