کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ایک آدمی کو زیادہ لوگ مل کر قتل کر دیں تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 29021
٢٩٠٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن خالد الحذاء عن ابن سيرين قال: كان لا يرى بأسًا في الرجل يقتله الرجلان أن يقتل أحدهما و (يأخذ) (١) الدية من الآخر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین کا ارشاد ہے کہ وہ اس آدمی کے بارے مں ر کوئی حرج نہیں دیکھتے کہ جس کو دو آدمیوں نے قتل کردیا ہو کہ ان دونوں میں سے ایک کو قتل اور دوسرے سے دیت لے لی جائے۔
حدیث نمبر: 29022
٢٩٠٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن الشعبي في الرجل يقتله النفر قال: (يدفعون) (١) إلى أولياء (المقتول) (٢) فيقتلون من شاءوا ويعفون عمن شاءوا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی ایسے شخص کے بارے میں کہ جسے ایک جماعت نے قتل کردیا ہو فرماتے ہیں کہ وہ سارے مقتول کے ورثاء کے سپرد کردیے جائیں گے وہ جسے چاہیں قتل کردیں اور جس کو چاہیں معاف کردیں۔
حدیث نمبر: 29023
٢٩٠٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن جريج عن عطاء قال: إذا عفى عن أحدهم (فليعف) (١) عنهم جميعًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے مروی ہے کہ اگر اس کے ورثاء نے ایک کو معاف کردیا تو ان کو چاہیے کہ کہ دوسرے کو بھی معاف کردیں۔
حدیث نمبر: 29024
٢٩٠٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن أنه قال: في رجل قتله ثلاثة نفر (فأراد) (١) وليه أن يعفو عن بعض ويقتل بعضًا ويأخذ من بعض الدية، قال: ليس له ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حسن نے ایسے شخص کے بارے میں کہ جس کو تین آدمیوں نے قتل کردیا ہو اولیاء نے ارادہ کرلیا ہو بعض کو معاف کرنے اور بعض کو قتل کرنے کا اور دیت لینے کا فرماتے ہیں کہ یہ بات ان کے لیے جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 29025
٢٩٠٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا بهز بن أسد عن أبان العطار عن قتادة عن سعيد بن المسيب في الرجل يقتله النفر، قال: (يعفو عمن) (١) (شاء) (٢)، و (يقتل من) (٣) (شاء) (٤)، و (يأخذ) (٥) الدية ممن (شاء) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب ایسے شخص کے بارے میں کہ جس کو ایک جماعت نے قتل کردیا ہو فرماتے ہیں کہ اس کے ورثاء جس کو چاہیں معاف کردیں اور جس کو چاہیں قتل کردیں اور جس سے چاہیں دیت وصول کرلیں۔
حدیث نمبر: 29026
٢٩٠٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن سفيان عن جابر عن الحكم عن إبراهيم (١) في الرجل يقتله النفر، قال: (يقتل) (٢) من (شاء) (٣) و (يعفوا) (٤) عمن (شاء) (٥) و (يأخذ) (٦) الدية ممن (شاء) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم ایسے شخص کے بارے میں کہ جس کو ایک جماعت نے قتل کردیا ہو فرماتے ہیں کہ اس کے ورثاء جس کو چاہیں قتل کردیں اور جس کو چاہیں معاف کریں اور جس سے چاہیں دیت وصول کرلیں۔