حدیث نمبر: 28756
٢٨٧٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن ابن سيرين عن شريح أنه قال: في الرجل تفقأ عينه وليس له عين غيرها قال: القصاص، وإن فقئت خطأ فنصف الدية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح نے فرمایا ہے کہ جس شخص کی آنکھ کو پھوڑ دیا گیا جب کہ اس کی یہی ایک آنکھ تھی تو اس کے بدلہ میں قصاص ہے اور اگر غلطی سے پھوٹ گئی تو اس میں آدھی دیت ہے۔
حدیث نمبر: 28757
٢٨٧٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا وكيع) (١) قال: حدثنا سفيان عن فراس عن الشعبي عن مسروق (٢) في الأعور تفقأ عينه الصحيحة، قال: فيها نصف، أنا أدي قتيل اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے روایت ہے کہ کانے شخص کی آنکھ کو پھوڑنے میں آدھی دیت ہے کیا میں اللہ کی پھوڑی ہوئی آنکھ کی بھی دیت بھروں گا ؟
حدیث نمبر: 28758
٢٨٧٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان ووكيع عن إسماعيل ابن أبي خالد عن الشعبي في الأعور تفقأ عينه الصحيحة عمدًا، قال: العين بالعين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی کا ارشاد ہے کہ کانے شخص کی صحیح آنکھ کو جب جان بوجھ کر پھوڑا جائے تو پھر اس آنکھ کے بدلہ میں آنکھ ہوگی (یعنی قصاص لیا جائے گا)
حدیث نمبر: 28759
٢٨٧٥٩ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع وعبد الرحيم عن إسماعيل بن أبي خالد عن أبي الضحى عن عبد اللَّه بن معقل في الأعور تفقأ عينه الصحيحة عمدًا، قال: العين بالعين] (١) (ما إذا فقأت عينه الأولى) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مغفل کا ارشاد ہے کہ کانے شخص کی صحیح آنکھ کو پھوڑنے کے بدلہ میں آنکھ ہے (یعنی قصاص) اس کی پہلی آنکھ کو میں نے تو نہیں پھوڑا ہے۔
حدیث نمبر: 28760
٢٨٧٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (قال: حدثنا) (١) إسرائيل عن جابر عن عطاء بن أبي رباح قال: فيها نصف الدية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن ابی رباح نے فرمایا کہ اس میں آدھی دیت ہے۔
حدیث نمبر: 28761
٢٨٧٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن سفيان عن الأعمش عن إبراهيم قال: فيها نصف الدية.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم کا ارشاد ہے کہ ا س میں آدھی دیت ہے۔
حدیث نمبر: 28762
٢٨٧٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن زكريا عن فراس عن عامر عن مسروق أنه سئل (عن) (١) أعور فقئت عينه فقال: لا أدي قتيل اللَّه، إنما على الذي (أصابها) (٢) دية عين (واحدة) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے مروی ہے کہ ان سے کانے کی آنکھ کو پھوڑے جانے کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں اللہ کی پھوڑی ہوئی آنکھ کی دیت نہیں ادا کروں گا زخم لگانے والے پر محض ایک آنکھ کی ہی دیت لازم ہوگی۔