٢٨٦٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (قال: حدثنا) (١) ابن أبي ليلى عن عكرمة بن خالد عن رجل من آل عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "في اليد خمسون" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ بن خالد اٰل عمر کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ہاتھ میں پچاس اونٹ ہیں۔
٢٨٦٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن محمد بن عمارة عن أبي بكر ابن عمرو بن حزم قال: كان في كتاب رسول اللَّه ﷺ لعمرو بن حزم: في اليد خمسون (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن عمرو بن حزم کا ارشاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرو بن حزم کو خط لکھا اس میں تھا کہ ہاتھ میں پچاس اونٹ ہیں۔
٢٨٦٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن عاصم ابن ضمرة عن علي قال: في اليد نصف الدية (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاتھ میں آدھی دیت ہے۔
٢٨٦٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن أشعث عن الشعبي عن علي قال: في اليد نصف الدية خمسون: من الإبل أرباعًا، ربع جذاع، وربع حقاق، وربع بنات لبون، وربع بنات مخاض (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ ہاتھ میں آدھی دیت ہے یعنی پچاس اونٹ چار حصوں میں ہوں گے ایک چوتھائی پانچویں سال میں چلنے والے اور چوتھائی چوتھے سال میں چلنے والے اور ایک چوتھائی تیسرے سال میں چلنے والی اونٹنیاں اور ایک چوتھائی دوسرے سال میں چلنے والی اونٹنیاں ہوں گی۔
٢٨٦٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن عاصم (عن علي) (١) قال: في اليد نصف الدية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ ہاتھ میں آدھی دیت ہے۔
٢٨٦٧١ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن أشعث عن عامر عن عبد اللَّه قال: في اليد نصف الدية أخماسًا] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ ہاتھ کی دیت پانچ حصوں میں ہوگی۔
٢٨٦٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق عن حكيم ابن حكيم عن عمرو بن شعيب قال: كان فيما وضع أبو بكر وعمر من (القضية) (١) في الجراحة: اليد إذا لم يأكل بها صاحبها ولم (يأتزر) (٢) ولم يستطب بها فقد تم عقلها، فما نقص فبحساب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب کا ارشاد ہے کہ حضرت ابوبکر اور عمر نے زخم کے بارے میں جو فیصلہ فرمایا تھا وہ یہ تھا کہ ہاتھ سے جب نا تو صاحب الید کھا سکے اور نا تہہ بند باندھ سکے اور استنجاء کرسکے تو اس کی دیت پوری ہوگی اور جو زخم اس سے کم ہو تو اس کے حساب سے دیت ہوگی۔
٢٨٦٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قال عطاء: في اليد تستأصل خمسون، قلت: أمن المنكب أو من الكتف؟ قال: لا، بل من المنكب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج کا ارشاد ہے کہ عطاء نے فرمایا ہے کہ ہاتھ کو جب جڑ سے اکھاڑ دیا جائے تو اس میں پچاس اونٹ دیت ہے میں نے پوچھا کہ شانے سے کٹ جائے یا مونڈھے سے ؟ تو انہوں نے جواب دیا نہیں بلکہ مونڈھے سے۔
٢٨٦٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: إن قطعت الأصابع فالدية، وإن قطعت الكف فخمسون من الإبل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد کا ارشاد ہے کہ اگر انگلیاں کٹ جائیں تو دیت کاملہ ہوگی اور اگر ہتھیلی کٹ جائے تو پچاس اونٹ دیت ہے۔
٢٨٦٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن جابر عن عامر قال: إذا قطعت اليد من المفصل ففيها نصف الدية، وإذا قطعت من العضد ففيها نصف الدية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر کا ارشاد ہے کہ ہاتھ کو اگر جوڑ سے کاٹا گیا تو آدھی دیت ہے اور اگر بازو سے کاٹا گیا تو اس میں آدھی دیت ہے۔
٢٨٦٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن أشعث عن الشعبي عن مسروق عن عبد اللَّه قال: اليدان سواء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ کا ارشاد ہے کہ دونوں ہاتھ برابر ہیں۔