حدیث نمبر: 28597
٢٨٥٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا المنهال (بن) (١) خليفة ⦗٤٠⦘ العجلي عن سلمة بن تمام (الشقري) (٢) قال: مر رجل (بقدر) (٣) فوقعت على رأس رجل (فأحرقت) (٤) شعره، فرفع (إلى) (٥) علي فأجله سنة، فلم ينبت فقضى فيه عليٌّ بالدية (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن تمام شقری نے فرمایا کہ ایک آدمی ہنڈیا کے پاس سے گزرا تو وہ اس کے سر پر گرگئی اور اس کے بال جل گئے تو بات حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے اس کو سال کی مہلت دی لیکن بال نہ اگے تو انہوں نے اس میں دیت کا فیصلہ کیا۔
حدیث نمبر: 28598
٢٨٥٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن مكحول عن زيد ابن ثابت في الشعر إذا لم ينبت (الدية) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت سے مروی ہے کہ بال جب نہ اگیں تو اس میں دیت ہے۔
حدیث نمبر: 28599
٢٨٥٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن صاعد بن مسلم عن الشعبي قال: فيه الدية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے مروی ہے کہ اس میں دیت ہے۔
حدیث نمبر: 28600
٢٨٦٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: حلق الرأس له (وزن) (١) -يعني أرش- (قال: لم أعلم) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج کا ارشاد ہے کہ میں نے عطاء سے پوچھا کہ کیا سر کو مونڈھنے میں بھی کوئی چٹی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں۔