حدیث نمبر: 28431
٢٨٤٣١ - (حدثنا أبو عبد الرحمن بقي بن مخلد قال: حدثنا أبو بكر عبد اللَّه بن محمد بن أبي شيبة العبسي قال) (١): حدثنا سفيان بن عيينة عن عمرو (عن) (٢) عكرمة قال: قضى النبي ﷺ لرجل من الأنصار قتله مولى بني عدي بالدية (اثني) (٣) عشر ألفًا وفيهم نزلت: ﴿وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ﴾ (٤) [التوبة: ٧٤].
حدیث نمبر: 28432
٢٨٤٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أيوب بن موسى عن (مكحول) (١) قال: توفي رسول اللَّه ﷺ والدية ثمانمائة دينار فخشي عمر من بعده ⦗٦⦘ فجعلها اثني عشر (ألف درهم) (٢) أو ألف دينار (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا اور دیت آٹھ سو ” ٨٠٠ “ دینار تھی۔ پھر عمر کو اپنے بعد خدشہ ہوا تو انہوں نے اس کو بارہ ہزار ” ١٢٠٠٠ “ درہم یا ہزار ” ١٠٠٠“ دینار کردیا۔
حدیث نمبر: 28433
٢٨٤٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (قال: حدثنا) (١) ابن أبي ليلى عن الشعبي عن عبيدة السلماني قال: وضع عمر الديات، فوضع على أهل الذهب ألف دينار، وعلى أهل الورق عشرة (آلاف) (٢)، وعلى أهل الإبل مائة من الإبل، وعلى أهل البقر مائتي بقرة مسنة، وعلى أهل الشاء ألفي شاة، وعلى أهل الحلل مائتي حلة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدۃ السلمانی نے فرمایا کہ عمر نے دیات کو مقرر فرمایا۔ تو سونے والوں پر ہزار ” ١٠٠٠ “ دینار، اور چاندی والوں پر دس ہزار ” ١٠٠٠٠ “ اور اونٹ والوں پر سو اونٹ، اور گائے والوں پر دو سو بڑی عمر والی گائے ، اور بکری والوں پر دو ہزار بکریاں، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑے مقرر کیے۔
حدیث نمبر: 28434
٢٨٤٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن (سليمان) (١) عن محمد بن إسحاق عن عطاء أن رسول اللَّه ﷺ وضع الدية على الناس في أموالهم ما كانت: على أهل الإبل مائة بعير، وعلى أهل الشاء ألفي شاة، وعلى أهل البقر مائتي بقرة، وعلى أهل (البرود) (٢) مائتي حلة، قال: وقد جعل على أهل الطعام شيئًا لا أحفظه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں پر ان کے اموال میں دیت مقرر کی جو کہ اونٹ والوں پر سو ” ١٠٠ “ اونٹ، اور بکری والوں پر دو ہزار بکریاں اور گائے والوں پر دو سو گائے اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑے تھی۔ عطاء فرماتے ہیں کہ آپ نے اناج والوں پر بھی کوئی چیز مقرر کی تھی مجھے وہ یاد نہیں۔
حدیث نمبر: 28435
٢٨٤٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن محمد بن عمرو قال: كتب عمر بن عبد العزيز إلى أمراء الأجناد أن الدية كانت على عهد رسول اللَّه ﷺ مائة بعير (١).
مولانا محمد اویس سرور
محمد بن عمرو نے فرمایا کہ عمر بن عبدالعزیز نے امرائے اجناد کی طرف خط لکھا کہ :۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں دیت سو اونٹ تھی۔
حدیث نمبر: 28436
٢٨٤٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن ابن أبي عروبة عن قتادة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "دية الخطأ مائة بعير، (فمن) (١) زاد بعيرًا فهو من أمر الجاهلية" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
قتادہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ” قتل کی دیت سو اونٹ ہے، پس جس شخص نے ایک اونٹ زیادہ کیا تو وہ جاہلیت کے کام میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 28437
٢٨٤٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن سعيد عن قتادة عن عمر بن عبد العزيز أنه جعل الدية مائة بعير وقوم كل بعير مائة غلت أو رخصت، فأخذ الناس بها.
مولانا محمد اویس سرور
عمر بن عبدالعزیز سے مروی ہے کہ انہوں نے سو اونٹ دیت مقرر کی اور ہر اونٹ کی قیمت سو ” ١٠٠ “ ٹھہرائی، اونٹ چاہے گراں قیمت ہو یا سستا پھر لوگوں نے اسی کو اپنالیا۔
حدیث نمبر: 28438
٢٨٤٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن أبي خالد عن عامر عن علي (وعبد اللَّه) (١) وزيد أنهم قالوا: الدية مائة بعير (٢).
مولانا محمد اویس سرور
علی رضی اللہ عنہ اور عبداللہ اور زید سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ” دیت سو اونٹ ہے “
حدیث نمبر: 28439
٢٨٤٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن خالد عن عكرمة عن أبي هريرة قال: إني لأسبح كل يوم اثنتي عشرة (١) ألف تسبيحة قدر ديتي -أو (قال) (٢) -: قدر ديته (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابوہریرہ نے فرمایا کہ میں اپنی دیت کے بقدر بارہ ہزار مرتبہ تسبیح روزانہ کرتا ہوں یا فرمایا اس کی دیت کے بقدر۔
حدیث نمبر: 28440
٢٨٤٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن مبارك (عن معمر) (١) عن عمرو ابن عبد اللَّه عن عكرمة أن عمر بن الخطاب قضى بالدية على أهل القرى اثني عشر ألفًا وقال: إن الزمان يختلف، وأخاف عليكم الحكام من بعدي، فليس على أهل القرى زيادة في (تغليظ عقل) (٢) ولا الشهر الحرام ولا الحرمة، وعقل أهل القرى (فيه) (٣). (لا زيادة فيه) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
عکرمہ سے روایت ہے کہ عمر نے دیہاتیوں پر بارہ ہزار دیت کا فیصلہ کیا اور فرمایا کہ زمانہ بدل رہا ہے اور مجھے اپنے بعد تمہارے بارے میں حکام سے خدشہ ہے پس دیہات والوں پر دیت کا مغلظہ کرنے میں کوئی زیادتی نہیں۔ اور نہ اشہر حرام اور نہ حرمت میں اور دیہاتیوں کی دیت میں تغلیظ ہے اس میں زیادتی نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 28441
٢٨٤٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن عمرو بن شعيب أن قتادة -رجلًا من (بني مدلج) (١) - قتل ابنه، فأخذ (منه عمر) (٢) مائة من الإبل: (ثلاثين) (٣) حقة، وثلاثين جذعة، وأربعين خلفة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب سے مروی ہے کہ تحقیق قتادہ نے جو کہ بنی مدلج کا ایک آدمی تھا اپنے بیٹے کو قتل کردیاتو عمر نے سو اونٹ لیے تیس حقہ (یعنی چوتھے سال میں چلنے والے) اور تیس جذعہ (پانچویں سال میں چلنے والے) اور چالیس حاملہ اونٹنیاں۔
حدیث نمبر: 28442
٢٨٤٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن علي بن زيد بن جدعان عن القاسم بن ربيعة عن ابن عمر قال: خطب رسول اللَّه ﷺ يوم فتح مكة فقام على درج الكعبة، فقال: "الحمد للَّه (الذي) (١) صدق وعده، ⦗٩⦘ ونصر عبده، وهزم الأحزاب وحده، ألا إن قتيل العمد الخطأ بالسوط (أو) (٢) العصا فيه الدية مغلظة، مائة من الإبل أربعون خلفة في بطونها أولادها" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن خطبہ دیاپس آپ کعبہ کی سیڑھی پر کھڑے ہوئے پھر فرمایا ” تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں کہ جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اور اپنے بندے کی مدد کی ، اور تن تنہا گروہوں کو شکست دی خبردار تحقیق کوڑے یا چھڑی میں خطائے قصد کی وجہ سے قتل ہونے والے شخص میں دیت مغلظہ ہے یعنی سو اونٹ ہیں جس میں سے چالیس ایسی (حاملہ) اونٹنیاں ہیں کہ ان کی اولاد ان کے پیٹ میں ہو۔
حدیث نمبر: 28443
٢٨٤٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن في أسنان الإبل في الدية قال: ثلاثون خلفة، وثلاثون جذعة، وعشرون ابنة مخاض، وعشرون ابنة لبون.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے دیت کے حکم میں اونٹ کی عمروں کے بارے میں مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ تیس حاملہ، اور تیس سال میں چلنے والے، اور بیس دوسرے سال میں چلنے والے، اور بیس تیسرے سال میں چلنے والے۔
حدیث نمبر: 28444
٢٨٤٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر قال: كان الزهري يقول: مائتي بقرة (أو) (١) ألفي شاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زھری فرمایا کرتے تھے کہ دو سو ” ٢٠٠ “ گائے یا دو ہزار بکریاں ” ٢٠٠٠ “
حدیث نمبر: 28445
٢٨٤٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا سعيد بن عبيد عن (بشير) (١) بن يسار عن سهل بن أبي حثمة أن النبي ﷺ فدى رجلًا بمائة من الإبل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہل بن ابی حثمہ فرماتے ہیں کہ تحقیق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو سو اونٹ ” خون بہا “ دیا۔