کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: مجلسوں میں بیٹھنے کا بیان
حدیث نمبر: 28248
٢٨٢٤٨ - حدثنا (يحيى) (١) بن آدم قال: حدثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن البراء قال: مر رسول اللَّه ﷺ على مجلس للأنصار فقال: " (إن) (٢) أبيتم (إلا أن) (٣) تجلسوا فاهدوا السبيل (وردوا السلام) (٤)، (وأعينوا) (٥) المظلوم" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصار کی ایک مجلس پر سے گزرے تو فرمایا : اگر تم بیٹھنے پر اصرار کرتے ہو تو سیدھا راستہ دکھاؤ (مسافر کو) اور سلام کا جواب دو ، اور مظلوم کی مدد کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28248
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28248، ترقيم محمد عوامة 27080)
حدیث نمبر: 28249
٢٨٢٤٩ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا موسى بن (عبيدة) (١) عن أيوب بن خالد عن مالك بن التيهان قال: اجتمعت جماعة منا عند رسول اللَّه ﷺ فقلنا: يا رسول اللَّه! إنا أهل سافلة وأهل عالية نجلس هذه المجالس فما تأمرنا؟ قال: "اعطوا المجالس حقها (قلنا: وما حقها؟) (٢) قال: غضوا أبصاركم وردوا السلام وأرشدوا ⦗٤٩١⦘ (الأعمى) (٣) وأمروا بالمعروف وانهوا عن المنكر" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن تیھان فرماتے ہیں کہ ہم میں سے ایک جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع ہوئی اور ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم لوگ شہر کے زیریں اور بالائی حصہ کے لوگ ہیں۔ ہم ان مجلسوں میں بیٹھتے ہیں پس آپ اس بارے میں ہمیں کس چیز کا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : تم لوگ مجلسوں کو ان کا حق ادا کرو۔ ہم نے پوچھا : ان کا حق کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنی نظروں کو جھکاؤ ، سلام کا جواب دو ، اور اندھے کو راستہ دکھلاؤ، نیکی کا حکم کرو اور برائی سے منع کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28249
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع، موسى بن عبيدة ضعيف، وأيوب بن خالد لم يسمع من مالك، أخرجه ابن أبي شيبة في المسند (٦٨٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28249، ترقيم محمد عوامة 27081)
حدیث نمبر: 28250
٢٨٢٥٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا عبد الواحد بن زياد قال: حدثنا عثمان بن حكيم قال: حدثني إسحاق بن عبد اللَّه بن أبي طلحة قال: حدثني أبي قال: قال أبو طلحة: كنا جلوسًا بالأفنية، فمر بنا رسول اللَّه ﷺ فقال: "ما لكم ولمجالس الصعدات؟، (اجتنبوا مجالس (الصعدات)) (١) (٢) "، قال: قلنا: يا رسول اللَّه! إنا جلسنا بغير ما بأس نتذاكر ونتحدث، قال: " (فأعطوا) (٣) المجالس حقها"، قال: قلنا وما حقها يا رسول اللَّه؟ قال: "غض البصر ورد السلام وحسن الكلام" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو طلحہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ کشادہ صحن میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہمارے پاس سے گزر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم کیوں راستوں میں مجلس لگاتے ہو ؟ تم راستوں کی مجلسوں سے بچو، ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم بغیر گناہ کے بیٹھتے ہیں ۔ صرف آپس میں گفتگو اور بات چیت کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر مجلسوں کو ان کا حق دو ، ہم نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجلسوں کا حق کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نظر کا جھکانا، سلام کا جواب دینا ، اور بہترین کلام کرنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28250
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢١٦١)، وأحمد (١٦٣٦٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28250، ترقيم محمد عوامة 27082)
حدیث نمبر: 28251
٢٨٢٥١ - حدثنا ابن نمير عن مالك بن مغول عن الشعبي قال: ما جلس الربيع ابن خثيم (مجلسًا) (١) منذ تأزر بإزار، قال: أخاف أن يظلم (رجل) (٢) فلا أنصره، أو يفتري رجل على رجل فأكلف الشهادة عليه، ولا أغض البصر، ولا أهدي السبيل، أو تقع الحاملة فلا أحمل عليها.
مولانا محمد اویس سرور
امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت ربیع بن خثیم نے جب سے لنگی باندھی ہے، کبھی کسی مجلس میں نہیں بیٹھے اور فرمایا : کہ مجھے خوف ہے کہ کسی شخص پر ظلم کیا جائے اور میں اس کی مدد نہ کرسکوں یا کوئی شخص کسی شخص پر جھوٹ باندھے اور مجھے اس پر گواہی کا مکلف بنادیا جائے اور میں نظر کو نہ جھکا سکوں اور مسافر کو راستہ نہ بتاسکوں یا کوئی سوار گرجائے تو میں اس کو سوا رنہ کرسکوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28251
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28251، ترقيم محمد عوامة 27083)
حدیث نمبر: 28252
٢٨٢٥٢ - حدثنا (هشيم) (١) عن العوام عن بن أبي الهذيل قال: كانوا يكرهون إذا اتخذوا المجالس أن (يعروها) (٢) للسفهاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوام فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الھذیل نے ارشاد فرمایا : صحابہ جب مجالس قائم کرتے ہیں تو وہ بیوقوفوں کو نظر انداز کیے جانے کو ناپسند کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28252
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28252، ترقيم محمد عوامة 27084)