حدیث نمبر: 28239
٢٨٢٣٩ - حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن سلمة بن كهيل عن عبد اللَّه بن عبد الرحمن بن أبزى عن (أبيه) (١) قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا أصبح قال: "أصبحنا على فطرة الإسلام وكلمة الإخلاص ودين نبينا محمد ﷺ (٢) وملة أبينا إبراهيم حنيفًا مسلمًا وما كان من المشركين" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابزی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صبح کرتے تو یہ دعا پڑھتے : ترجمہ : ہم نے صبح کی فطرت اسلام پر اور کلمہ اخلاص پر ، اور ہمارے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین پر اور ہمارے والد ابراہیم کی ملت پر جو پکے مسلمان تھے اور مشرکین میں سے نہیں تھے۔
حدیث نمبر: 28240
٢٨٢٤٠ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر قال: (حدثنا) (١) أبو عقيل عن سابق عن أبي سلام خادم رسول اللَّه ﷺ قال: ما من مسلم أو إنسان أو عبد يقول حين يمسي ويصبح ثلاث مرات: رضيت باللَّه ربًا وبالإسلام دينًا وبمحمد نبيًا (٢) (ثلاث مرات) (٣) إلا كان حقًا (على) (٤) اللَّه أن يرضيه يوم القيامة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلام جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادم ہیں وہ فرماتے ہں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کوئی مسلمان یا کوئی انسان یا کوئی بندہ صبح و شام تین مرتبہ یہ کلمات نہیں پڑھتا : ترجمہ ! میں اللہ کو رب مان کر ، اسلام کو دین مان کر اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی مان کر راضی ہوں۔ مگر یہ کہ اللہ پر اس کا حق ہے کہ قیامت کے دن اللہ اس کو راضی کردیں گے۔
حدیث نمبر: 28241
٢٨٢٤١ - حدثنا أبو الأحوص عن منصور عن ربعي بن (حراش) (١) عن رجل من النخع عن سلمان قال: من قال إذا أصبح: اللهم أنت ربي لا شريك لك، ⦗٤٨٧⦘ أصبحنا وأصبح الملك (للَّه) (٢) والحمد للَّه لا شريك له، وإذا أمسى قال مثل ذلك، كان كفارة لما (أحدث) (٣) بينهما (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربعی بن حراش قبیلہ نخع کے کسی آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی نے ارشاد فرمایا : جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات پڑھے : ترجمہ : اے اللہ ! تو میرا پروردگار ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔ ہم نے صبح کی اور تمام ملک نے اللہ کے لیے صبح کی اور سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور جو شخص شام کے وقت بھی ایسے ہی پڑھے تو یہ دعا کفارہ بن جائے گی ان گناہوں کے لیے جو ان دونوں کے مابین سرزد ہوئے۔
حدیث نمبر: 28242
٢٨٢٤٢ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن تميم بن سلمة عن عبد اللَّه بن (سبرة) (١) عن ابن عمر أنه كان يقول إذا أصبح وأمسى: اللهم اجعلني من أفضل عبادك -الغداة أو العشية- نصيبًا (من) (٢) خير تقسمه، (أو) (٣) (نورًا) (٤) تهدي به، (أو) (٥) رحمة تنشرها، (أو) (٦) رزقًا تبسطه، (أو) (٧) (رضى) (٨) تكشفه، (أو) (٩) بلاء ترفعه، (أو) (١٠) فتنة (تصرفها) (١١)، (أو شرًا) (١٢) تدفعه (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن سبرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما صبح و شام یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ ترجمہ : اے اللہ ! تو مجھے بنا دے اپنے افضل ترین بندوں میں سے صبح یا شام کے وقت حصہ دیتے ہوئے اس بھلائی میں سے جس کو تو تقسیم کرے گا یا اس نور میں سے جس کے ذریعہ تو ہدایت دے گا یا اس رحمت میں سے جس کو تو بانٹے گا یا اس رزق میں سے جس کو تو عطا کرے گا یا اس تکلیف سے جس کو تو ہٹا دے گا یا اس مصیبت سے جس کو تو دفع کرے گا یا اس فتنہ سے جس کو تو پھیر دے گا یا اس شر سے جس کو تو دفع کر دے گا۔
حدیث نمبر: 28243
٢٨٢٤٣ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن عمرو بن مرة قال: قلت لسعيد بن المسيب: ما (تقول) (١) إذا أصبحتم وأمسيتم مما تدعون به؟ قال: (تقول) (٢): أعوذ (باللَّه) (٣) الكريم، وبسم اللَّه العظيم، وكلمة اللَّه التامة، من شر السامة (والعامة) (٤)، ومن شر ما خلقت أي (رب) (٥)، وشر ما أنت آخذ بناصيته، ومن شر هذا اليوم ومن شر ما بعده، وشر الدنيا والآخرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب سے پوچھا : جب آپ لوگ صبح و شام کرتے تھے۔ تو آپ لوگ کون سی دعا پڑھتے تھے ؟ آپ نے فرمایا : ہم لوگ یہ دعا پڑھتے تھے : ہم اللہ کے معزز چہرے کی اور اللہ کے عظیم نام کی اور اللہ کے مکمل کلمہ کی پناہ لیتے ہیں ، موت اور عام چیزوں کے شر سے، اور اے پروردگار جو مخلوق تو نے پیدا کی اس کے شر سے اور جس کی پیشانی تیرے قبضہ میں ہے اس کے شر سے ، اور اس دن کے شر سے جو اس کے بعد ہے اس کے شر سے، اور دنیا اور آخرت کے شر سے۔
حدیث نمبر: 28244
٢٨٢٤٤ - حدثنا ابن نمير عن موسى الجهني قال: حدثني رجل عن سعيد بن جبير أنه قال: من قال: ﴿(فَسُبْحَانَ) (١) اللَّهِ (حِينَ تُمْسُونَ وَ) (٢) حِينَ تُصْبِحُونَ﴾ [الروم: ١٧]، حتى يفرغ من الآية ثلاث مرات، أدرك ما فاته من (ليلته) (٣) ومن قالها (ليلًا) (٤) أدرك ما فاته من (يومه) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
موسیٰ جہنی کسی شخص سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر نے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ آیت پڑھے : ترجمہ : اللہ کی پاکی بیان کرو جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو۔ یہاں تک کہ تین مرتبہ آیت پڑھ کر فارغ ہوجائے تو وہ پالے گا اس عمل کا ثواب جو اس کا رات کو فوت ہوگیا تھا اور اگر رات میں یہ آیت پڑھے تو وہ پالے گا اس عمل کا ثواب جو اس کا دن میں فوت ہوگیا تھا۔
حدیث نمبر: 28245
٢٨٢٤٥ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا حماد بن سلمة عن أبي سهيل عن أبيه عن (أبي عياش) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من قال حين يصبح: لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير، كان له كعدل رقبة من ولد اسماعيل، وكتب له (بها) (٢) عشر حسنات، (وحط) (٣) عنه بها عشر سيئات، (ورفعت له) (٤) بها عشر درجات، وكان في حرز من الشيطان حتى يمسي، وإذا أمسى مثل ذلك حتى يصبح" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عیاش فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات پڑھے : ترجمہ : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ تو اس شخص کو اسماعیل کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دی جائیں گی ، اور اس کے دس گناہوں کو مٹا دیا جائے گا اور دس درجات بلند کیے جائیں گے اور وہ شیطان سے حفاظت میں رہے گا یہاں تک کہ وہ شام کرلے ۔ اور جب وہ شام کو یہ کلمات پڑھے گا تو اسی جیسا ثواب ملے گا یہاں تک کہ وہ صبح کرلے۔