حدیث نمبر: 28112
٢٨١١٢ - حدثنا (هشيم) (١) عن مجالد عن الشعبي عن جابر أن عمر بن الخطاب أتى النبي ﷺ بكتاب أصابه من بعض أهل (الكتب) (٢) فقال: يا رسول اللَّه إني أصبت كتابًا حسنًا من بعض (أهل) (٣) الكتاب قال: فغضب وقال: "امتهوكون فيها يا ابن الخطاب (فوالذي) (٤) نفسي بيده لقد جئتكم بها بيضاء نقية، لا تسألوهم عن شيء فيخبروكم بحق فتكذبوا به، أو بباطل فتصدقوا به، والذي نفسي بيده (لو كان ⦗٤٥٢⦘ موسى) (٥) حيًا (اليوم) (٦) (ما وسعه) (٧) إلا أن يتبعني (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اہل کتاب کی کتاب کا کوئی صفحہ لائے اور فرمایا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے اہل کتاب کی ایک بہت اچھی کتاب ملی ہے۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غضبناک ہوگئے اور فرمایا : اے ابن خطاب ! کیا تم اس بارے میں ابھی حیرت زدہ ہو ؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کہ تحقیق میں تمہارے پاس واضح اور روشن دین لے کر آیا ہوں۔ تم اہل کتاب سے کسی بھی چیز کے متعلق سوال مت کرو کہ وہ تمہیں حق بات بتلائیں گے اور تم اس کو جھٹلا دو گے، یا وہ تمہیں باطل بات بتلائیں گے اور تم اس کی تصدیق کردو گے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے۔ اگر آج حضرت موسیٰ بھی زندہ ہوتے تو ان کے لیے میری اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔
حدیث نمبر: 28113
٢٨١١٣ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن (سعد) (١) بن إبراهيم عن عطاء بن (يسار) (٢) قال: كانت اليهود تجيء إلى المسلمين فيحدثونهم فيستحسنون، أو قال: يستحبون، فذكروا ذلك لرسول اللَّه ﷺ فقال: "لا تصدقوهم ولا تكذبوهم وقولوا" ﴿آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا (٣)﴾ [المائدة: ٥٩]، إلى آخر الآية (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ یہودی مسلمانوں کے پاس آتے تھے اور ان کو اپنی کتابوں سے باتیں بتلایا کرتے جو مسلمانوں کو اچھی لگتی تھیں۔ پس صحابہ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر فرمائی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نہ ان کی تصدیق کرو اور نہ ہی ان کو جھٹلاؤ۔ تم یوں کہہ دیا کرو۔ ہم ایمان لائے اللہ پر ، اور اس چیز پر جو اس نے ہماری طرف نازل کی اور اس چیز پر جو اس نے تمہاری طرف نازل کی۔ آیت کے آخر تک۔
حدیث نمبر: 28114
٢٨١١٤ - حدثنا حاتم بن وردان عن أيوب عن عكرمة قال: قال ابن عباس: تسألون أهل الكتاب عن كتبهم، وعندكم كتاب اللَّه أقرب الكتب عهدًا باللَّه (و) (١) تقرأونه محضًا لم يشب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اہل کتاب سے ان کی کتابوں کے متعلق پوچھتے ہو حالانکہ تمہارے پاس خود کتاب اللہ موجود ہے ، جو تمام کتابوں میں اللہ کے عہد کے زیادہ قریب ہے، تم محض اس لیے قرآن پڑھتے ہو کہ دھوکہ نہ دے دیا جائے۔
حدیث نمبر: 28115
٢٨١١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يعلى قال: حدثنا الأعمش عن عمارة عن عبد الرحمن بن يزيد قال: قال عبد اللَّه: لا تسألوا أهل الكتاب عن شيء فتكذبوا بحق أو تصدقوا بباطل، فإنهم لن يهدوكم ويضلون أنفسهم، وليس أحد منهم إلا (و) (١) في قلبه تالية تدعوه إلى دينه كتالية المال (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : تم اہل کتاب سے کسی بھی چیز کے متعلق مت پوچھا کرو کہ تم حق بات کو جھٹلا دو گے یا غلط بات کی تصدیق کردو گے۔ بیشک وہ تمہیں ہرگز سیدھی راہ نہیں دکھائیں گے۔ انہوں نے تو خود کو غلط راہ پر ڈالا ہوا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے دل میں خواہش ہے جو اسے اس کے دین کی طرف بلاتی ہے مال کی خواہش کی طرح۔