حدیث نمبر: 28097
٢٨٠٩٧ - حدثنا شريك وهشيم عن يعلى بن عطاء عن عمرو بن الشريد عن ⦗٤٤٨⦘ أبيه قال: كان في وفد ثقيف رجل مجذوم فأرسل إليه النبي ﷺ إنا قد بايعناك فارجع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شرید فرماتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف کے وفد میں کوئی شخص جذام میں مبتلا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف قاصد بھیج کر پیغام بھجوایا کہ ہم نے تجھ سے بیعت لے لی، تم واپس لوٹ جاؤ۔
حدیث نمبر: 28098
٢٨٠٩٨ - حدثنا وكيع عن عبد اللَّه بن [سعيد عن محمد (بن) (١) عبد اللَّه بن) (٢) عمرو بن عتمان عن أمه فاطمة (بنت) (٣) حسين عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تديموا النظر إلى المجذومين" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ کوڑھ میں مبتلا لوگوں کو مسلسل مت دیکھو۔
حدیث نمبر: 28099
٢٨٠٩٩ - حدثنا وكيع عن النهاس بن (قهم) (١) قال: سمعت (شيخًا) (٢) بمكة يحدث عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "فر من المجذوم فرارك من الأسد" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جذام زدہ شخص سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو۔
حدیث نمبر: 28100
٢٨١٠٠ - حدثنا وكيع عن إلهمماعيل بن مسلم عن الوليد بن عبد اللَّه أن النبي ﷺ مر على مجذوم فخمر أنفه فقيل له: يا رسول اللَّه أليس قلت: لا عدوى ولا ⦗٤٤٩⦘ طيرة قال: "بلى، (ولكن أقذرهم) (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ولید بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جذام زدہ شخص پر گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ناک کو ڈھانک لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا : چھوت کی کوئی حقیقت نہیں ، بدفالی کی کوئی حقیقت نہیں ؟ ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیوں نہیں۔
حدیث نمبر: 28101
٢٨١٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يورد الممرض على المصح" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیمار کو تندرست کے پاس مت لاؤ۔
حدیث نمبر: 28102
٢٨١٠٢ - حدثنا وكيع عن أسامة بن زيد عن نافع بن جبير قال: قال كعب لعبد اللَّه بن عمرو: هل تطير؟ قال: نعم، قال: فما تقول؟ قال: أقول: اللهم لا طير إلا طيرك، ولا خير إلا خيرك، ولا رب (لنا) (١) غيرك، قال: أنت أفقه العرب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا بدشگونی ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ! انہوں نے پوچھا : پھر آپ کیا دعا پڑھتے ہو ؟ آپ نے فرمایا میں یہ دعا کرتا ہوں۔ ترجمہ : اے اللہ ! کوئی بدفالی نہیں سوائے تیری بدفالی کے ۔ اور کوئی خیر نہیں سوائے تیری خیر کے۔ اور تیرے سوا ہمارا کوئی پروردگار نہیں۔ حضرت کعب نے فرمایا : تم عرب کے سب سے بڑے فقیہ ہو۔
حدیث نمبر: 28103
٢٨١٠٣ - حدثنا محمد بن سواء عن خالد الحذاء عن أبي قلابة أنه كان يعجبه أن (يُتقى) (١) المجذوم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد حذاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابو قلابہ پسند کرتے تھے کہ جذام زدہ شخص سے بچا جائے۔