حدیث نمبر: 27994
٢٧٩٩٤ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي (ليلى) (١) عن عيسى عن عبد الرحمن بن أبي (ليلى) (٢) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تسبوا الليل ولا النهار، ولا الشمس ولا القمر، ولا الريح، فإنها تبعث عذابًا على (قوم) (٣) ورحمة على آخرين" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ تم گالی مت دو رات کو نہ ہی دن کو ، نہ سورج کو نہ چاند کو اور نہ ہی ہوا کو۔ اس لیے کہ انہیں ایک قوم پر عذاب بنا کر بھیجا گیا اور دوسری قوم پر رحمت بنا کر بھیجا گیا۔
حدیث نمبر: 27995
٢٧٩٩٥ - حدثنا يحيى بن سعيد عن الأوزاعي عن الزهري قال: حدثنا ثابت الزرقي عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تسبوا الريح، فإنها من روح اللَّه، تأتي بالرحمة والعذاب، ولكن سلوا اللَّه من خيرها، وتعوذوا (باللَّه) (١) ⦗٤١٨⦘ من شرها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ تم ہوا کو برا بھلا مت کہو، اس لیے کہ یہ اللہ کی مہربانی ہے، رحمت بھی لاتی ہے اور عذاب بھی، لیکن تم اللہ سے اس کی بھلائی کا سوال کرو اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔
حدیث نمبر: 27996
٢٧٩٩٦ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عاصم الأحول عن الحسن أن رسول اللَّه ﷺ كان في (سير) (١)، فهبت ريح، فكشفت عن رجل قطيفة كانت عليه، فلعنها، فقال له النبي ﷺ: " (ألعنتها؟) (٢) " قال: يا رسول اللَّه كشفت قطيفتي، فقال: "إذا رأيتها فسل اللَّه من خيرها، وتعوذ باللَّه من شرها، ولا تلعنها فإنها مأمورة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن بصری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں تھے کہ ہوا چل پڑی اور ایک آدمی کی چادر اس وجہ سے کھل گئی تو اس نے ہوا کو لعن طعن کی، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا : کیا تم نے ہوا کو لعنت کی ہے ؟ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میری چادر کھل گئی ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم ہوا دیکھو تو اللہ سے اس کی بھلائی کا سوال کرو، اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو ، اور اس کو لعنت مت کرو اس لیے کہ یہ تو اللہ کی طرف سے مامور ہے۔