٢٧٩٧٨ - حدثنا وكيع عن مسعر عن شيخ قال: سمعت ابن عمر أو جابرا قال: كان في كلام رسول اللَّه ﷺ (ترتيل) (١) أو ترسيل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما یا حضرت جابر ان دونوں حضرات میں سے کوئی ایک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام میں خوش الحانی یا وضاحت ہوتی تھی۔
٢٧٩٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (أبي العميس) (١) عن عطية عن ابن عمر قال: (الانبعاق) (٢) في الكلام من (شقاشق) (٣) الشيطان (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : زیادہ فصیح کلام شیطان کے منہ کے جھاگ کی طرح ہے۔
٢٧٩٨٠ - حدثنا وكيع عن (سفيان عن) (١) أسامة عن الزهري (عن عروة) (٢) عن عائشة قالت: كان كلام رسول اللَّه ﷺ (كلامًا) (٣) فصلًا، يفهمه كل من سمعه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلام ایسا واضح ہوتا تھا ہر سننے والا اس کو سمجھ جاتا تھا۔
٢٧٩٨١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا نافع بن عمر (الجمحي) (١) عن بشر بن عاصم عن (أبيه) (٢) عن عبد اللَّه بن (عمرو) (٣)، (قال) (٤) نافع: أراه رفعه، قال: إن اللَّه يبغض البليغ من الرجال الذي يتخلل بلسانه تخلل (الباقرة) (٥) بلسانها (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت آدمیوں میں سے اس آدمی سے دشمنی رکھتے ہیں جو زبان ہلا ہلا کر فصیح کلام کرتا ہے گائیوں کے زبان سے چارہ ہلانے کی طرح۔
٢٧٩٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن أبي خالد عن عبد الملك بن (عمير) (١) قال: قام رجل فتكلم بين يدي النبي ﷺ حتى أزبد شدقاه فقال: النبي ﷺ: "تعلموا وإياكم و (شقائق) (٢) الكلام، فإن (شقاشق) (٣) الكلام من (الشيطان) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن عمیر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کلام کیا یہاں تک کہ اس نے اپنے منہ سے جھاگ نکالا ، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم سیکھو اور منہ پھاڑ کر کلام کرنے سے بچو، اس لیے کہ منہ پھاڑ کر کلام کرنا شیطان کے منہ سے نکلنے والے جھاگ کی طرح ہے۔